Main Icon

باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6063

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهٖ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهٖ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا. فَقَالَ: «هٰكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج ذات يوم ودخل المسجد وأبو بكر وعمر أحدهما عن يمينه والآخر عن شماله وهو آخذ بأيديهما. فقال: «هكذا نبعث يوم القيامة» .رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم ایک دن نکلے اور مسجد میں تشریف لائے اور ابوبکر و عمر بھی ان دونوں میں سے ایک صاحب آپ کے داہنی طرف تھے دوسرے بائیں طرف حضور ان دونوں کے ہاتھ پکڑے تھے تو فرمایا ہم یہ قیامت کے دن ایسے ہی اٹھائے جائیں گے ۱؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎سب سے بڑا خوش نصیب وہ ہے جسے قیامت میں حضور انور کا قرب نصیب ہوجاوے تو جو حضور انور کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بارگاہ الٰہی میں پیش ہو اس کے مقدمہ کا کیا پوچھنا۔اس حدیث میں اپنی قبور کا بھی پتہ دے دیا گیا ہے۔شعر
میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو کہ رستہ میں ہیں جا بجا تھانے والے
اس لحاظ سے بھی بعد انبیاء ساری مخلوق میں سب سے بڑے خوش نصیب یہ دونوں حضرات ہیں جنہیں حضور انور سے دنیا میں قبروں حشر میں ایسا قرب نصیب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6063