Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2036

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- اسْتكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ.وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيْلًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عائشة قالت: كان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- يصوم حتى نقول: لا يفطر، ويفطر حتى نقول: لا يصوم، وما رأيت رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- استكمل صيام شهر قط إلا رمضان، وما رأيته في شهر أكثر منه صياما في شعبان.وفي رواية قالت: كان يصوم شعبان كله، وكان يصوم شعبان إلا قليلا. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے رہتے حتی کہ ہم کہتے افطار نہ کریں گے اور افطار کرتے رہتے حتی کہ ہم کہتے روزے نہ رکھیں گے اور میں نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ سوائے رمضان کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں ۱؎اور میں نے حضور کو شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے نہ دیکھا ۲؎ایک روایت میں یوں ہے فرماتی ہیں کہ قریبًا سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے اور بجز تھوڑے دنوں کے سارے شعبان کے روزے رکھتے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ کلی حکم ہے جس سے کوئی مہینہ مستثنٰی نہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے ماہ رمضان کسی مہینہ کے مکمل روزے کبھی نہ رکھے۔
۲
؎یعنی آپ رمضان کے علاوہ باقی تمام مہینوں میں روزے ضرور رکھتے تھے مگر شعبان میں زیادہ رکھتے تھے۔فِیْ شَھْرٍ اَکْثَرَکی ضمیر سے حال ہے اورفِیْ شَعْبَانِ مِنْہُکی ضمیر سے حال یا یہ دونوں ظرف ہیں۔
۳
؎اس عبارت کا دوسرا جملہ پہلے جملہ کی تفسیر ہے یعنی کل شعبان سے مراد قریبًا کل ہے،چونکہ شعبان رمضان کا پڑوسی ہے اس لیے وہ بھی حرمت والا ہے،نیز اس مہینہ میں رمضانی عبادات کی تیاری کرنا چاہئیے،اس لیے اس ماہ میں نفلی نماز روزے کثرت سے ادا کرنا بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2036