Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2045

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ: "فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: سئل رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- عن صوم الاثنين فقال: "فيه ولدت وفيه أنزل علي". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا ۱؎اس دن میں ہم پیدا ہوئے اور اسی دن ہم پر قرآن اتارا گیا۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو پوچھا گیا کہ اس دن میں روزہ رکھنا کیسا ہے اور اس کا کیا ثواب ہے یا یہ کہ یارسول اللہ آپ ہر پیر کو روزہ کیوں رکھتے ہیں اس میں کیا خصوصیت ہے۔(مرقات و لمعات)
۲
؎یعنی پیر کے دن دنیا کو دو نعمتیں ملیں:ایک میری تشریف آوری اور دوسرے نزول قرآن کی ابتداء کہ غار حرا میں پہلی وحی "اِقْرَاۡ بِاسْمِ"الایہپیر کے دن ہی آئی لہذا اس دن روزہ رکھنا بہت ہی بہتر ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ وقت اور جگہ اشرف واقعات کی وجہ سے اشرف ہوجاتے ہیں۔ (مرقات)دوسرے یہ کہ حضو ر انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کریمہ اللہ تعالٰی کی بڑی ہی نعمت ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نعمتوں میں شمار کیا،رب تعالٰی نے صرف اس نعمت پرمَنَّفرما کر احسان جتایا کہ فرمایا:"لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ"الایہ۔تیسرے یہ کہ اہم واقعات کی یادگاریں مناناسنت سے ثابت ہے۔چوتھے یہ کہ یادگار میں کھیل کود نہ ہونا چاہئیے بلکہ عبادتیں ہوں اس لیے میلاد شریف،عید معراج،عرس وغیرہ کا ثبوت ہوتاہے۔پانچویں یہ کہ امام مالک کے ہاں پیر کا دن جمعہ سے بھی افضل ہے،ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2045