Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2070

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صِيَامُ عَاشُورَاءَ، وَالْعَشْرِ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

وعن حفصة قالت: أربع لم يكن يدعهن النبي -صلی اللہ عليه وسلم-: "صيام عاشوراء، والعشر، وثلاثة أيام من كل شهر، وركعتان قبل الفجر". رواه النسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حفصہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار کام نہ چھوڑتے تھے عاشورہ کا روزہ،بقر عید کے دس دن اور ہر مہینہ تین دن کے روزے ۱؎اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں۔(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات شریف تک یہ تینوں قسم کے روزے رکھے لہذا یہ سب سنت ہیں،بقر عید کے دس دن سے مراد نو دن ہیں ورنہ دسویں بقرعید کو روزہ حرام ہے یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثری عمل مراد ہے نہ کہ ہمیشہ کا لہذا یہ حدیث حضرت عائشہ صدیقہ کی اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں آپ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ کو بقرعید کے عشرہ میں روزہ رکھتے نہ دیکھا،بقر عید کا عشرہ بہت ہی بہترین زمانہ ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں بہترین ہیں کہ ان سب میں شب قدر ہے اور بقرعید کے پہلے عشرہ کے دن افضل ہیں کہ ان میں عرفہ کا دن ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2070