Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2061

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ قَالَ: سَأَلتُ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ فَقَالَ: "إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ، فَإِذًا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ كلَّهُ".رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن مسلم القرشي قال: سألت أو سئل رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- عن صيام الدهر فقال: "إن لأهلك عليك حقا، صم رمضان والذي يليه وكل أربعاء وخميس، فإذا أنت قد صمت الدهر كله".رواه أبو داود والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مسلم قرشی سے فرماتے ہیں کہ یا میں نے یا کسی اور نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم سے عمر بھر کے روزوں کے متعلق پوچھا ۱؎تو فرمایا کہ تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے رمضان کا اور اس کے متصل کا روزہ رکھو۲؎اور ہر بدھ و جمعرات کا روزہ رکھو تو تم نے ساری عمر کے روزے رکھ لیے۳؎(ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کہ پانچ ممنوعہ دنوں کے علاوہ باقی سارا سال روزہ رکھنے کا شرعی حکم کیا ہے ثواب ہے یا گناہ۔
۲
؎متصل سے مراد یا شعبان ہے یا شوال یعنی اکثر شعبان اور سارے رمضان کے روزے رکھو یا سارے رمضان اور چھ شوال کے روزے رکھو،یہ حدیث مجمل ہے جس کی شرح پہلی احادیث تھیں۔
۳
؎یعنی ان روزوں میں تمہیں ساری عمر کے روزوں کا ثواب مل جائے گا۔یہاں مرقات نے فرمایا اس سے معلوم ہورہا ہے کہ عمر بھر کے روزے بذات خود ممنوع نہیں بلکہ اگر ضعف پیدا کریں جس سے مسلمان دوسرے حقوق ادا نہ کرسکے تو ممنوع ہیں لہذا بعض صحابہ کرام اور مشائخ عظام کا عمر بھر روزے رکھنا اس حدیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2061