Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2046

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوَّيةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَهَا: مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّام الشَّهْر يَصُومُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن معاذة العدوية أنها سألت عائشة: أكان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- يصوم من كل شهر ثلاثة أيام؟ قالت: نعم، فقلت لها: من أي أيام الشهر كان يصوم؟ قالت: لم يكن يبالي من أي أيام الشهر يصوم. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذہ عدویہ سے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھتے تھے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کہ مہینہ کے کون سے حصہ میں روزے رکھتے تھے فرمایا اس کی پرواہ نہ کرتے تھے کہ کس حصہ میں روزہ رکھیں ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ حضرت عائشہ صدیقہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حال نگاہ میں رکھتی تھیں اس لیے سرکار کے حالات زیادہ تر ام المؤمنین ہی سے پوچھے جاتے تھے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مہینہ میں مختلف روزے رکھتے تھےکبھی زیادہ کبھی کم مگر تین دن سے کم کبھی نہ رکھتے تھے،اکثر تیرہویں،چودھویں، پندرھویں کے روزے رکھتے تھے،کبھی ان کے علاوہ اور تاریخوں میں بھی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ان تین تاریخوں میں روزے رکھتے تھے کیونکہ وہاں اکثری حالت کا ذکر ہے۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ ان تین روزوں کی تاریخوں میں دس۱۰ قول ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2046