Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2060

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن أم سلمة قالت: كان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- يأمرني أن أصوم ثلاثة أيام من كل شهر، أولها الاثنين والخميس. رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تھے کہ میں تین روزے ہر مہینہ میں رکھوں جن میں پہلا روزہ پیر یا جمعرات کا ہو ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حکم استحبابی تھا نہ کہ وجوبی،اسی واسطے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے وہ روزے نفل ہوتے تھے۔مرقات نے فرمایا کہاثنینپیر کے دن کا نام بن چکا ہے جیسے بحرین ایک علاقہ کا نام ہے اور ناموں میں تبدیلی نہیں ہوتی اس لیے یہاں رفع کی حالت میںاثناننہ آیا بلکہاثنینہی آیا۔بعض کا خیال ہے کہ یہاںیومپوشیدہ ہےاثنیناس کا مضاف الیہ ہے مگر پہلی بات بہت قوی ہے۔مطلب یہ ہے کہ کسی مہینہ میں پیر منگل اور بدھ کے روزے رکھو اور کسی میں جمعرات،جمعہ اور ہفتہ کے بعض شارحین کے خیال میں یہ واؤ بمعنیاَوْہے یعنی تمہیں اختیار ہے کہ پیر سے شروع کرو یا جمعرات سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2060