- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- حدیث نمبر 2054
باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2054
روزے کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَا عَبْدَ اللّٰهِ! أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ " فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللّٰهِ، قَالَ: "فَلَا تَفْعَلْ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ. صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كلِّهِ، صُمْ كُلَّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَاقْرَأ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: "صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمَ دَاوُدَ: صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ. وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبع لَيَالٍ مَرَّةً، وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال لي رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "يا عبد الله! ألم أخبر أنك تصوم النهار وتقوم الليل؟ " فقلت: بلى يا رسول الله، قال: "فلا تفعل، صم وأفطر، وقم ونم، فإن لجسدك عليك حقا، وإن لعينك عليك حقا، وإن لزوجك عليك حقا، وإن لزورك عليك حقا، لا صام من صام الدهر. صوم ثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر كله، صم كل شهر ثلاثة أيام، واقرأ القرآن في كل شهر". قلت: إني أطيق أكثر من ذلك. قال: "صم أفضل الصوم صوم داود: صيام يوم وإفطار يوم. واقرأ في كل سبع ليال مرة، ولا تزد على ذلك". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عبد اللہ کیا مجھے یہ خبر نہ ملی کہ تم ہمیشہ دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو ۱؎میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ایسا نہ کرو روزہ بھی رکھو،افطاربھی کرو، قیام بھی کرو اور سوؤ بھی ۲؎کیونکہ تم پر تمہارے جسم کا بھی حق ہے اور تم پر تمہاری آنکھو ں کا بھی حق ہے ۳؎اور تم پرتمہاری بیوی کا بھی حق ہے اورتم پر تمہارے ملاقاتی کا بھی حق ہے ۴؎جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزے رکھے ہی نہیں ۵؎ہر مہینہ تین روزے ساری عمر کے روزے ہیں ہر مہینہ میں تین روزے رکھو ۶؎اور ہر مہینہ ایک قرآن ختم کرو ۷؎میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۸؎فرمایا تو تم بہترین روزے یعنی روزہ داؤد رکھو کہ ایک دن روزہ ایک دن افطار اور سات راتوں میں ایک قرآن ختم کرو اس سے زیادہ نہ کرو ۹؎(مسلم، بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ سوال انکاری ہے یعنی مجھے خبر ملی ہے کہ تم سوائے پانچ ممنوعہ دنوں کے باقی سال بھر مسلسل نفلی روزے رکھتے رہتے ہو اور رات کو عبادات کہ نہ دن میں کبھی افطارکرتے ہو نہ رات میں سوتے ہو۔
۲؎ورنہ تم اتنے کمزور ہوجاؤ گے کہ فرضی عبادتیں اور لوگوں کے شرعی حقوق ادا نہ کرسکو گے اور نفل کی وجہ سے فرض چھوڑنا یا فرض چھوٹنے کے اسباب پرعمل کرنا نہ عقلًا مناسب ہے نہ شرعًا۔خیال رہے کہ اس صورت میں یہ ممانعت تحریمی ہے،جو چیز فرائض چھڑا دے وہ حرام ہے۔
۳؎ہمیشہ روزہ رکھنے سے تمہارا جسم بہت کمزور ہوجائے گا اور بالکل نہ سونے سے نگاہ کمزور پڑجانے کا خطرہ ہے۔
۴؎اور ہمیشہ روزہ رکھنے اور شبِ بیداری کرنے سے تم کما نہ سکو گے اور بیوی کو منہ نہ لگاؤ گے،ملاقاتی لوگ اور مہمان چاہتے ہیں کہ تم ان کے ساتھ کھاؤ پیو اور رات کو دو گھڑی ان سے بات چیت کرو،تم یہ بھی نہ کرسکو گے۔ان جملوں سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ روزے رکھنے کی ممانعت ہم جیسے لوگوں کے لیے ہے جو تمام حقوق چھوڑ بیٹھیں۔جن کے لیے ہمیشہ کا روزہ اور رات بھر کا جاگنا مذکورہ حقوق سے آڑ نہ ہو ان کے لیے اس میں حرج نہیں مگر ایسے بہادر لوگ لاکھوں میں ایک آدھ ہیں،جیسے حضرت طلحہ وغیرہ صحابہ میں اور امام ابوحنیفہ تابعین میں۔
۵؎یعنی کامل روزے نہ رکھے جس سے پورا ثواب ملے۔ہماری پہلی شرح سے معلوم ہوچکا کہ یہاںمَنْسے مراد وہ عام مسلمین ہیں جو دن میں عبادتوں میں مشغول ہوکر باقی حقوق ادا نہ کرسکیں۔
۶؎کیونکہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے تو ہر مہینہ میں تین روزوں کا ثواب پورے مہینہ کے روزوں کا ہوگا،بہتر یہ ہے کہ یہ تین روزے چاند کی ۱۳،۱۴،۱۵ کو رکھے جائیں۔
۷؎یہ جملہ قرآن کریم کے تیس پارے بنانے کی اصل ہے،زمانہ نبوی میں قرآن کریم کی تقسیم سورتوں اور منزلوں پرتھی رکوع اور پاروں پر نہ تھی،پھر خلافت عثمانیہ میں اس میں رکوع قائم کئے گئے کہ حضرت عثمان غنی تراویح کی رکعتوں میں جس قدر تلاوت کرکے رکوع فرماتے اس کا نام رکوع رکھا گیا اور حاشیہ پرعکا نشان لگایا گیا تاکہ تراویح کا باقاعدہ رواج دینے والے جناب عمر اور اس رواج کو تمام دنیا میں پھیلانے والے حضرت عثمان کی طرف اشارہ ہو،تراویح روزانہ بیس رکعت ہوتی تھیں اور ستائیسویں شب کو ختم قرآن اس لیے قرآن کریم کے پانچ سو چالیس رکوع ہوئے،بہت عرصہ بعد قرآن کریم کے تیس پارے کئے گئے تاکہ روزانہ تلاوت کرنے والوں کو آسانی رہے کہ وہ اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے ہرمہینہ ایک قرآن ختم کرلیا کریں۔
۸؎لہذا مجھے زیادہ عبادت کی اجازت دیجئے۔خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت سے ان کے لیے اتنے نوافل اور روزے ناجائز ہوگئے تھے اس لیے آپ خوشامدکرکے زیادہ کی اجازت حاصل کررہے ہیں۔اس سے جہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات خداداد معلوم ہوئے وہاں ہی صحابہ کا شوق عبادت بھی ظاہر ہوگیا، اللہ ان بزرگوں کے طفیل ہمیں بھی عبادات کا شوق دے۔
۹؎کہ روزانہ فمی بشوق کی ترتیب پر ایک منزل پڑھو تاکہ ہفتہ میں ایک قرآن ختم ہو۔ابھی عرض کیا جاچکا کہ یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو حضرت عبد اللہ ابن عمرو جیسی طاقت رکھتے ہوں،ان سے کمزور مہینہ میں ختم کریں اور ان سے زیادہ قوی ہفتہ سے کم میں بھی ختم کرسکتے ہیں،ایک مہینہ میں بھی ختم نہ کرنا بڑی محرومی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2054