Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2073

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّكَ تَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَقَالَ: "إِنَّ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ يَغْفِرُ اللّٰهُ فِيهِمَا لِكُلِّ مُسْلِمٍ إِلَّا ذَا هَاجِرَيْنِ، يَقُولُ: دَعْهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعنه أن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- كان يصوم يوم الاثنين والخميس، فقيل: يا رسول الله! إنك تصوم يوم الاثنين والخميس، فقال: "إن يوم الاثنين والخميس يغفر الله فيهما لكل مسلم إلا ذا هاجرين، يقول: دعهما حتى يصطلحا". رواه أحمد وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کے دن روزے رکھتے تھے عرض کیا گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں تو فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن اللہ تعالٰی سوائے عداوت والوں کے باقی سب مسلمانوں کو بخش دیتا ہے ۱؎ان کے متعلق فرمایا ہے انہیں چھوڑ دو حتی کہ آپس میں صلح کرلیں ۲؎(احمد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله !یہ دونوں دن بڑی عظمت اور برکت والے ہیں کیوں نہ ہوں کہ انہیں عظمت والوں سے نسبت ہے،جمعرات تو جمعہ کا پڑوسی ہے اور حضرت آمنہ خاتون کے حاملہ ہونے کا دن ہے اور پیر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن بھی ہے اور نزول قرآن کریم کا بھی جیساکہ پہلے گزر چکا۔بخاری شریف میں ہے کہ ایک صحابی(حضرت عباس رضی اللہ عنہ)نے ابولہب کو اس کے مرنے کے بعد خواب میں دیکھا،پوچھا کیا حال ہے بولاسخت عذاب میں گرفتار ہوں مگر پیر کے دن میرا عذاب کچھ ہلکا ہوتا ہے اور اپنے داہنے ہاتھ کی پہلی انگلی سے مجھے پانی ملتا ہے کیونکہ میں نے اس دن حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو اس انگلی کے اشارے سے کہا تھا جا تو آزاد ہے۔سبحان الله !تاقیامت ان دو دنوں میں اللہ کے فضل سے ہم گنہگار بخشش اور مغفرت کی مٹھائیاں لیتے رہیں گے۔شعر
بزرگوں سے نسبت بڑی چیز ہے خدا کی یہ نعمت بڑی چیز ہے
یہاں مرقات نے فرمایا کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پیر و جمعرات کے دن ان مسلمانوں کی بخشش ہوتی ہے جو ان دنوں میں روزہ رکھنے کے عادی ہیں۔
۲
؎یہ خطاب کہ انہیں چھوڑ دو یا تو اس فرشتے سے ہوتا ہے جو اعمال کے رجسٹروں سے لوگوں کے گناہ مٹانے پر مقرر ہے یا ان لوگوں سے ہوتا ہے جو ان کے لیے دعائے مغفرت کریں۔(مرقات،واشعہ)یعنی ابھی ان کے گناہ باقی رہنے دو جب تک کہ یہ آپس میں صلح نہ کرلیں۔عداوت سے مراد دنیاوی عداوتیں ہیں جو جائداد مال وغیرہ کے باعث ہوں دینی عداوتیں تو عبادت ہیں ،ہر مسلمان ہر کافر سے عداوت رکھے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ مِنْ اَزْوٰجِکُمْ وَ اَوْلٰدِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ فَاحْذَرُوۡهُمْ"۔اس معلوم ہوا کہ مسلمان سے کینہ و عداوت اللہ تعالٰی کی بڑی رحمت سے محرومی کا باعث ہے،سینہ كينه سے پاک رکھو تاکہ اس میں مدینہ کے انوار دیکھو،گندی تختی پر حرف کندہ نہیں ہوتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2073