Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2042

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ،فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيْرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أم الفضل بنت الحارث: أن ناسا تماروا عندها يوم عرفة في صيام رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-، فقال بعضهم: هو صائم، وقال بعضهم: ليس بصائم،فأرسلت إليه بقدح لبن وهو واقف على بعيره بعرفة فشربه. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام الفضل بنت حارث سے ۱؎کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق گفتگو کی بعض نے کہا کہ حضور روزہ دار ہیں اور بعض نے کہا کہ حضور روزہ دار نہیں ۲؎تو ام الفضل نے ایک پیالہ دودھ حضور انور کی خدمت میں بھیجا جب کہ آپ عرفات میں اپنے اونٹ پر قیام فرما تھے تو آپ نے پی لیا ۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام لبابہ ہے،حضرت عباس کی بیوی عبد اللہ ابن عباس و فضل ابن عباس کی والدہ ہیں،ام المؤمنین حضرت میمونہ کی بہن ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔
۲
؎یہ واقعہ حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن ہوا جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں قیام فرما تھے۔خیال رہے کہ یہاںصیاممصدر ہے جمع نہیں جیسے قیام کبھی مصدر ہوتاہے کبھی جمع،صیام صومکی جمع بھی آئی ہے اورصائمکی بھی اور مصدر بھی۔
۳
؎سبحان الله!ام الفضل کی فراست پر قربان جاؤں کہ آپ نے نہایت آسانی سے ان کا جھگڑا ختم کردیا اور دودھ بھیجا کیونکہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ مرغوب تھا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ عرفہ کا روزہ غیرحاجی کے لیے سنت ہے حاجی کے لیے سنت نہیں بلکہ ایسے کمزور کو جو روزہ رکھ کر ارکان حج ادا نہ کرسکے مکروہ ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ پر دودھ پینا اسی کے اظہار کے لیے تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2042