Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2056

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "تُعْرَضُ الأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس، فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اعمال پیر و جمعرات کو پیش کئے جاتے ہیں ۱؎لہذا میں چاہتاہوں کہ میرے عمل اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزہ والا ہوں۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ اعمال لکھنے والے فرشتے بندوں کے ہفتہ بھر کے اعمال ان دو دنوں میں رب تعالٰی کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔خیال رہے کہ اعمال کا اٹھانا یعنی آسمانوں پر پہنچانا اور ہے اور رب تعالٰی کی بارگاہ میں پیشی کچھ اور،اعمال کا اٹھانا تو روزانہ چوبیس گھنٹے میں دوبار ہوتا ہے کہ دن کے اعمال رات سے پہلے،اور رات کے اعمال دن سے پہلے وہاں پہنچائے جاتے ہیں مگر پیشی ہفتہ میں دو بار لہذایہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں روزانہ دوبار اعمال اٹھانے کا ذکر ہے۔(مرقات)یا اس کے معنی یہ ہیں کہ اعمال لکھنے والے فرشتے اعمال نامے ان فرشتوں پر پیش کرتے ہیں جواعمال ناموں کی نقل اپنے رجسٹروں میں کرتے ہیں۔(اشعہ)تب تو یہ حدیث بالکل صاف ہے۔
۲
؎تاکہ روزے کی برکت سے رحمت الٰہی کا دریا جوش مارے۔خیال رہے کہ سال بھر کے اعمال کی تفصیلی پیشی شعبان میں ہوتی ہے کیونکہ وہ اللہ کے ہاں سال کا آخری مہینہ ہے اور رمضان سال کا شروع مہینہ جیسے دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے۔غرضکہ فرشی سال اور ہے جس کی ابتداءمحرم سے انتہاء بقرعید پر،عرشی سال کچھ اور۔(ازمرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2056