Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2058

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَقَلَّمَا كَانَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ: إِلَى ثَلَاثَة أَيَّام.

وعن عبد الله بن مسعود قال: كان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- يصوم من غرة كل شهر ثلاثة أيام، وقلما كان يفطر يوم الجمعة. رواه الترمذي والنسائي، ورواه أبو داود: إلى ثلاثة أيام.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں پہلی تین تاریخوں میں روزے رکھتے تھے ۱؎اور جمعہ کے دن بہت کم افطار کرتے تھے۲؎(ترمذی،نسائی)اور ابوداؤد نے تین ایام تک روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎پہلی دوسری تیسری تاریخوں میں یا ان کے قریب۔حضرت ابن مسعود کی یہ روایت اپنے علم کے لحاظ سے ہے ورنہ سرکار کا یہ عمل کبھی کبھی تھا اکثر ۱۳،۱۴،۱۵ کو روزہ رکھا کرتے تھے لہذا یہ حدیث نہ تو اس حدیث کے خلاف ہے کہ سرکار مہینہ کے روزوں میں خاص تاریخوں کے پابند نہ تھے اور نہ اس کے مخالف کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض یعنی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں کے روزے رکھتے تھے۔
۲
؎یعنی اکثر جمعہ کو روزہ رکھتے تھے،چونکہ جمعہ کی نیکی کا ثواب ستر گناہ ہے۔ظاہر یہ ہے کہ آپ صرف جمعہ کا روزہ رکھتے تھےاور یہ آپ کی خصوصیات میں سے نہیں،ہر شخص کو اس دن کے روزے کی اجازت ہے لہذا یہ حدیث مذہب حنفی و فقہاء کے فتوی کی مؤید ہے کہ جمعہ کا روزہ ممنوع نہیں،جہاں ممناعت آئی ہے وہاں کسی عارضہ سے ہے یا بمعنی خلاف اولیٰ ہے۔(مرقات واشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2058