Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2065

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ.

وعن عامر بن مسعود قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "الغنيمة الباردة الصوم في الشتاء". رواه أحمد والترمذي، وقال: هذا حديث مرسل.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عامر ابن مسعود سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھنڈی غنیمت جاڑوں کے روزے ہیں ۲؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث مرسل ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎ان کے نام اور ان کی صحابیت میں بڑا اختلاف ہے بعض نے کہا کہ یہ عامر ابن عبد اللہ ابن مسعود ہیں،تابعی ہیں،بعض نے فرمایا کہ یہ عامر ابن مسعود ابن امیہ ابن خلف جمعی ہیں،یعنی صفوان ابن امیہ کے بھتیجے۔حق یہی ہے کہ آپ صحابی نہیں تابعی ہیں۔
۲
؎جن میں تکلیف بہت کم اور اصل روزے کا ثواب پورا جیسے جہاد میں دشمن بغیر مقابلہ بھاگ جائے اور سردی کا موسم بھی ہو کہ غازی بلا تکلیف ثواب اور غنیمت لے آتا ہے،سردی کے رمضان کا بھی یہی حال ہے۔خیال رہے کہ یہ اصل ثواب میں گفتگو ہے ورنہ گرمی کے روزوں میں زیادہ مشقت کا ثواب بھی ملے گا اسی لیے حضرت علی مرتضیٰ فرماتے ہیں کہ مجھے تین چیزیں بڑی پیاری ہیں:اکرام الضیف،صیام الصیف،جہاد بالسیف،مہمان کی خدمت،گرمی کے روزے،تلوار سے جہاد۔
۳
؎کیونکہ عامر ابن مسعود نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نہ پائی۔خیال رہے کہ آپ ابراہیم ابن عامر قرشی کے والد ہیں اور آپ کی اس کے سواء کوئی حدیث نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2065