Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2068

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الأَحَدِ أَكْثَرَ مَا يَصُومُ مِنَ الأَيَّامِ، وَيَقُولُ: "إِنَّهُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أم سلمة قالت: كان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- يصوم يوم السبت ويوم الأحد أكثر ما يصوم من الأيام، ويقول: "إنهما يوما عيد للمشركين، فأنا أحب أن أخالفهم". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم جن دنوں میں روزے زیادہ رکھتے تھے ان میں اکثر ہفتہ و اتوار کو رکھتے تھے ۱؎اور فرماتے تھے کہ یہ دونوں دن مشرکین کی عید کے دن ہیں میں چاہتاہوں کہ ان کی مخالفت کروں۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ ہفتہ یا اتوار یا دونوں دنوں کے روزے رکھنا یہودیوں عیسائیوں کی مخالفت کرنے کے لیے بہت ہی بہتر ہے اور ان دنوں کی تعظیم کے لیے روزہ رکھنا سخت منع لہذا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہفتہ کے روزے سے منع فرمایا گیا تھا کیونکہ وہاں دوسری نوعیت کا روزہ مراد تھا اور یہاں پہلی قسم کا روزہ مقصود ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہاں صرف ہفتہ کا روزہ مراد ہو اور یہاں ہفتہ اتوار دونوں دن کا روزہ ہے۔
۲
؎یعنی ہفتہ کا دن یہود کی عید ہے اور اتوار کا دن عیسائیوں کی عید ان میں وہ خوب کھاتے پیتے ہیں اور عیش کرتے ہیں ہم نے ان کی مخالفت میں روزہ رکھا۔مشرکین سے مراد یہودی،عیسائی ہیں کیونکہ یہود عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مان کر ان کی پوجا کرتے ہیں اور عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کی لہذا یہ دونوں مشرک ہوئے۔ قرآن شریف میں عمومًا شرک بمعنی کفر اور مشرک بمعنی کافر استعمال ہوا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ"اور فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ"۔ان آیتوں میں شرک بمعنی کفر ہے، ہوسکتا ہے کہ یہاں بھی مشرکین سے کفار مراد ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2068