Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2040

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إلَّا هٰذَا الْيَوْمَ: يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَهٰذَا الشَّهْرَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس قال: ما رأيت النبي -صلی اللہ عليه وسلم- يتحرى صيام يوم فضله على غيره إلا هذا اليوم: يوم عاشوراء، وهذا الشهر يعني شهر رمضان. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ آپ کسی دن کے روزوں کو دوسرے دنوں پر بزرگی دے کر تلاش کرتے ہوں ۱؎سوائے اسی دن یعنی عاشوراء کے دن اور اسی مہینے یعنی ماہ رمضان کے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس کو بہت بہتر بھی سمجھتے ہوں اور مبالغہ سے اس کی جستجو بھی کرتے ہوں اور سال بھر تک اس کا انتظار فرماتے ہوں یعنی آپ کا انتظار اور تلاش کرنا اتفاقًا نہ تھا بلکہ ان کو سب سے افضل بیان کرنا تھا۔
۲
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنوں میں عاشورے کے دن کو بہت افضل جانتے تھے اورمہینوں میں رمضان کے مہینہ کو۔ عاشورے کی افضلیت کے وجوہ ابھی عرض کئے گئے۔ماہ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے، اس میں شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے اس کا آخری عشرہ اعتکاف کا زمانہ ہے،اس مہینہ میں جبریل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے،نیز اس مہینہ میں دوزخ بند رہتی ہے جنت کے دروازے کھلے رہتے ہیں،شیطان قید ہوجاتے ہیں اس لیے یہ مہینہ دوسرے مہینوں سے افضل ہے۔خیال رہے کہ قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور ہجرت سے پہلے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی عمل تھا ہجرت کے بعد اسلام میں اس دن کا روزہ فرض ہوا،پھررمضان کی فرضیت سے اس روزے کی فرضیت تو منسوخ ہو گئی مگر سنیت اور استحباب اب بھی باقی ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ صوم عاشورہ کا افضل اور یوم عرفہ کا افضل یعنی نویں ذی الحجہ کہ وہ حج کا دن ہے لہذا یہ حدیث عرفہ کی افضلیت کی حدیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2040