Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2050

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللّٰهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن نبيشة الهذلي قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم:"أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر الله". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نبیشہ ہذلی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریق کا زمانہ کھانے اور پینے اور اللہ کے ذکر کا زمانہ ہے ۱؎(مسلم)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎بقرعید کے تین دن بعد تک یعنی ۱۳ تاریخ تک اہلِ عرب قربانی کے گوشت سکھاتے تھے اس لیے ان دنوں کو تشریق یعنی سکھانے اور دھوپ دکھانے کا زمانہ کہا جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ یہ چار دن بندوں کی مہمانی کے ہیں جن میں رب تعالٰی میزبان بندے مہمان اس لیے ان دنوں میں روزہ رکھنا گویا رب تعالٰی کی دعوت سے انکار،اس زمانہ میں خوب کھاؤ خوب پیئو اور خوب اللہ کا ذکر کرو،یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفصیل ہے جس نے بتایا کہ وہاں بقر عید سے مراد یہ چاروں دن تھے۔
۲
؎احمد،طبرانی،دار قطنی،ابن ابی شیبہ وغیرہم نے مختلف الفاظ سے روایتیں کیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منٰی کے زمانہ میں اعلان کراتے تھے،صحابہ منٰی کے بازار میں شورکرتے پھرتے تھے کہ خبردار ایام تشریق میں روزے نہ رکھنا یہ دن کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2050