Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2069

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَأْمُرُ بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُ وَلَمْ يَتَعَاهَدْنا عِنْدَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر بن سمرة قال: كان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- يأمر بصيام يوم عاشوراء ويحثنا عليه ويتعاهدنا عنده، فلما فرض رمضان لم يأمرنا ولم ينهنا عنه ولم يتعاهدنا عنده. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے اور ہم کو اس پر رغبت دیتے اور عاشورہ کے دن ہماری تحقیقات فرماتے تھے پھر جب رمضان فرض ہوا تو نہ ہمیں اس کا حکم دیا نہ منع کیا نہ تحقیقات فرمائی ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ دونوں واقعے ہجرت کے بعد ہیں،ہجرت سے پہلے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی روزہ کا حکم نہیں دیا تھا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شروع اسلام میں عاشورہ کا روزہ فرض تھا کیونکہ اس کا حکم دینا اور عاشورہ آنے پرتحقیقات فرمانا کہ کس نے روزہ رکھا اور کس نے نہیں فرضیت کی علامت ہے۔رمضان کی فرضیت کے بعد عاشوراء کی فرضیت اٹھ گئی مگر سنیت باقی رہی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات شریف تک یہ روزہ رکھاہے۔مسلم،بخاری میں حضرت سلمہ ابن اکوع سے روایت ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے یہ اعلان کرایا کہ جس نے کچھ کھا لیا ہو وہ بقیہ دن کچھ نہ کھائے اور جس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھ لے کیونکہ آج عاشورہ ہے،یہ حدیث اس زمانہ کی ہے جب عاشورہ کا روزہ فرض تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2069