Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2039

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْضَلُ الصِّيامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللّٰهِ الْمُحَرَّمُ،وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم،وأفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رمضان کے بعد افضل روزے اللہ کے مہینہ محرم کے ہیں ۱؎اور فرض کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ محرم سے مراد عاشورہ کا دن ہے نہ کہ سارا ماہ محرم ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزے زیادہ رکھا کرتے،چونکہ عاشورہ کا دن محرم میں واقع ہوا ہے اور عاشورہ میں بڑے اہم واقعات ہوچکےہیں:آدم علیہ السلام کی توبہ کی قبولیت،نوح علیہ السلام کی کشتی کا جودی پہاڑ پرٹھہرنا،یعقوب علیہ السلام کا اپنے فرزند یوسف علیہ السلام سے ملنا،فرعون کا غرق اور موسیٰ علیہ السلام کی نجات،ایوب علیہ السلام کی شفا،یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا وغیرہ عاشورہ ہی کے دن ہوئے،بعد میں شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ اور قیامت کا آنا اسی دن میں ہونے والا تھا اس لیے سارے محرم کو اللہ کا مہینہ فرمایا گیا یعنی اللہ کے محبوبوں کا مہینہ کہ جو اللہ کے بندوں کا ہوجائے وہ اللہ کا ہوجاتا ہے اورجس دن یا جس مہینہ میں کوئی اہم کام ہوا ہو اس میں عبادتیں کرنا بہتر ہے لہذا ربیع الثانی کی گیارہویں،ربیع الاول کی بارھویں،رجب کی ستائیسویں افضل تاریخیں ہیں اور ان میں عبادات،روزہ،نوافل، میلاد شریف وغیرہ کرنا بہت بہتر ہے۔یہ حدیث بہت سے صوفیانہ و عالمانہ مسائل کا ماخذ ہے۔صوفیائے کرام بہت سے اعمال کی زکوۃ عاشورہ کے دن ادا کرتے ہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھئے۔
۲
؎فرض سے مراد نماز پنجگانہ ہے مع سنن مؤکدہ اور وتر کے،اور رات کی نماز سے مرادتہجد ہے یعنی فرائض وتر اورسنن مؤکدہ کے بعد درجہ نمازِ تہجد کاہے کیوں نہ ہو کہ اس نماز میں مشقت بھی زیادہ ہے اور خصوصی حضور بھی غالب،یہ نماز حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ"۔رب تعالٰی نے تہجد پڑھنے والوں کے بڑے فضائل بیان فرمائے:"تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ"اور فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیٰمًا" وغیرہ۔فقیر کی وصیت ہے کہ ہر مسلمان ہمیشہ تہجد پڑھے اور اس نماز کا ثواب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیہ کردیا کرے بلکہ انہی کی طرف سے ادا کیا جائےان شاء الله !وہاں سے بہت کچھ ملے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2039