- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- حدیث نمبر 2067
باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2067
روزے کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا هٰذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟ " فَقَالُوا: هٰذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ: أَنْجَى اللّٰهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ، وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا، فَنَحْنُ نَصُومُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ" فَصَامَهُ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن ابن عباس أن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- قدم المدينة فوجد اليهود صياما يوم عاشوراء، فقال لهم رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "ما هذا اليوم الذي تصومونه؟ " فقالوا: هذا يوم عظيم: أنجى الله فيه موسى وقومه، وغرق فرعون وقومه، فصامه موسى شكرا، فنحن نصومه، فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "فنحن أحق وأولى بموسى منكم" فصامه رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- وأمر بصيامه. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورے کے دن روزہ رکھتے پایا ۱؎ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیسا دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو ۲؎وہ بولے یہ وہ عظمت والا دن ہے جس میں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبویا،موسٰی علیہ السلام نے شکریہ میں روزہ رکھا ہم بھی رکھتے ہیں ۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حقدار ہیں ۴؎چنانچہ یہ روزہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکھا ۵؎اور اس روزہ کا حکم بھی دیا ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی ہجرت کے دوسرے سال میں جب عاشورے کا دن آیا تو آپ نے یہودکو روزہ دار دیکھا کیونکہ ربیع الاول شریف میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ پہنچے تھے اس سال کا عاشورہ گزر چکا تھا۔
۲؎خیال رہے کہ یہود کے مہینے اور تاریخیں اسلامی مہینوں اور تاریخوں کے علاوہ تھیں مگر انہوں نے عاشورے کے دن کو روزہ کے لیے چھانٹ لیا تھا جس میں چاند کے حساب سے ہی روزے رکھتے تھے محض برکت کے لیے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب یہود کے مہینہ ہی اور تھے تو ان کا عاشورا کے دن روزہ کیسا۔
۳؎شرعی قاعدہ سے دینی باتوں میں کفار کی خبرمعتبر نہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ خبرمعتبر مانی یا اس لیے کہ عبد اللہ ابن سلام وغیرہ علمائے یہود جو اسلام لاچکے تھے انہوں نے بھی یہ خبر دی یا اس لیے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ وحی سے معلوم تھا،اس کی تائید کرانے کے لیے ان سے یہ سوال فرمایا گیا یا اس لیے کہ یہود کے ہاں یہ خبر متواتر تھی،متواتر خبریں کفار کی بھی معتبر ہیں،تواتر مستقل بڑا ثبوت ہے۔
۴؎کیونکہ انبیاء علیہم السلام سارے بھائی ہیں اصل دین میں سب متفق ہیں۔اے یہود! تم نے تو ان کی کتاب ہی بدل دی اور تم اصل دین ہی میں ان کے مخالف ہوگئے تو جب تم ان کی خوشی میں شرکت کرتے ہو تو ہم بھی ان کی خوشی میں شریک ہوں گے اور ان کی یادگار قائم کریں گے۔اس میں لطیف اشارہ اس جانب بھی ہے کہ ہم عاشورہ کا روزہ تمہاری مشابہت کے لیے نہیں رکھتے بلکہ موسیٰ علیہ السلام کی موافقت کے لیے رکھتے ہیں اور موافقت انبیاء علیہم السلام اسلام میں بڑی پیاری چیز ہے،دیکھو سورۂ ص کا سجدہ داؤد علیہ السلام کی موافقت کے لیے ہے نہ کہ داؤدیوں کی مشابہت کے لیے۔فقیر کی اس تقریر سے اس حدیث سے یہ شبہ اٹھ گیا کہ یہود و نصاریٰ سے مشابہت اسلام میں منع ہے۔یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ شروع اسلام میں یہ مشابہت ممنوع نہ تھی بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بہت سی باتوں میں اہل کتاب کی موافقت کرتے تھے حتی کہ اسلام کا پہلا قبلہ بیت المقدس رہا کیونکہ انہی کے تالیف قلوب کے لیے پھر جب ان کی ہٹ دھرمی کھل گئی تو اسلام میں ان کی مخالفت لازم کردی گئی۔
۵؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ روزہ رکھنا موسٰی علیہ السلام کی موافقت کے لیے ہے نہ کہ ان کی متابعت کے لیے۔موافقت اور متعابعت میں زمین و آسمان کا فرق ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہۡ"یہاں موافقت کا ذکر ہے کہ آپ سارے انبیاء کی موافقت فرمائیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگرموسیٰ علیہ السلام تجلیات ظاہری زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر چارہ کار نہ ہوتا،یہاں اتباع کا ذکر ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کے موافق ہیں اور انبیائے کرام حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع۔
۶؎چنانچہ شروع اسلام میں عاشوراء کا روزہ فرض رہا،پھر رمضان کی فرضیت سے عاشورا کے روزوں کی فرضیت تو منسوخ ہوگئی مگر سنیت اب بھی باقی ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ معظم واقعات کی یادگاریں منانا رکن اسلامی ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ یادگاریں محض اس لیے حرام نہ کہی جائیں گی کہ ان میں مشابہت کفار کا شائبہ ہے۔تیسرے یہ کہ اسلامی یادگاریں کھیل کود سے نہ منائی جائیں بلکہ عبادتوں سے منائی جائیں،دیکھو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی یادگار میں روزہ رکھا جو کہ عبادت ہے۔چوتھے یہ کہ اللہ والوں کی خوشی میں شرکت کرنا کچھ ملنے کابہانہ ہوجاتاہے،بادشاہوں کے نوکر چاکر شہزادوں کی سالگرہ میں دکھلاوے کی خوشی مناکر بھی کچھ پا لیتے ہیں تو اگر ہم عید میلاد،عید معراج دل سے منائیں توان شاء اللهمنہ مانگی مرادیں پائیں گے بلکہ پا رہے ہیں ان تمام عیدوں کی اصل یہ حدیث ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2067