- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- حدیث نمبر 2044
باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2044
روزے کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: كَيْفَ تَصُومُ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِنْ قَوْله، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ غَضَبَهُ قَالَ: رَضِينَا بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نبَيًّا، نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ غَضَبِ اللّٰهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، فَجَعَلَ عُمَرُ يُرَدِّدُ هٰذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ،فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! كَيفَ بِمن يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ: "لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ"، أَوْ قَالَ: "لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ". قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ . قَالَ: "وَيُطِيقُ ذٰلِكَ أَحَدٌ؟ " قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُوم يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: "ذَالِك صَوْمُ دَاوُدَ" قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: "وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ فَهٰذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كلِّهِ، صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُوراءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن أبي قتادة: أن رجلا أتى النبي -صلی اللہ عليه وسلم- فقال: كيف تصوم؟ فغضب رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- من قوله، فلما رأى عمر غضبه قال: رضينا بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، نعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله، فجعل عمر يردد هذا الكلام حتى سكن غضبه،فقال عمر: يا رسول الله! كيف بمن يصوم الدهر كله؟ قال: "لا صام ولا أفطر"، أو قال: "لم يصم ولم يفطر". قال: كيف من يصوم يومين ويفطر يوما؟ . قال: "ويطيق ذلك أحد؟ " قال: كيف من يصوم يوما ويفطر يوما؟ قال: "ذالك صوم داود" قال: كيف من يصوم يوما ويفطر يومين؟ قال: "وددت أني طوقت ذلك". ثم قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "ثلاث من كل شهر ورمضان إلى رمضان فهذا صيام الدهر كله، صيام يوم عرفة أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده، وصيام يوم عاشوراء أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا آپ روزے کیسے رکھتے ہیں تو اس کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے ۱؎جب حضرت عمر نے آپ کی ناراضی دیکھی تو عرض کیا ہم اللہ کی ربوبیت اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفےٰ کے نبی ہونے سے راضی ہیں ہم اللہ و رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۲؎حضرت عمر یہ بار بار کہتے رہے حتی کہ حضور کی ناراضی جاتی رہی ۳؎پھر حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اللہ جو ساری عمر روزے رکھے وہ کیسا فرمایا نہ اس نے روزے رکھے نہ افطار کیا یا فرمایا نہ روزہ رکھ سکا اور نہ افطار کرسکا۴؎عرض کیا جو دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا کیا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ۵؎عرض کیا جو ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا یہ داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں ۶؎عرض کیا جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا میری تمنا ہے کہ مجھے یہ طاقت ملتی ۷؎پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر ماہ میں تین دن کے روزے اور رمضان سے رمضان تک کے روزے ساری عمر کے روزے ہیں ۸؎عرفہ کے دن کا روزہ مجھے اللہ کے کرم پر امید ہے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے کا کفارہ ہوجائے ۹؎اور عاشورہ کے دن روزہ مجھے اللہ کے کرم پر امید ہےکہ پچھلے سال کا کفارہ بنادے۔(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎چند وجہ سے یہ ناراضی ہوئی:ایک یہ کہ سوال میں بے ادبی کا شائبہ ہے،سائل کو چاہئیے کہ اپنے متعلق سوال کرے نہ کہ مفتی کے بارے میں،انہیں پوچھنا چاہئیے تھا کہ میں کس طرح روزے رکھا کروں۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کریمہ مختلف تھے آپ کبھی زیادہ روزے رکھتے تھے کبھی کم تو جواب دشوار تھا۔تیسرے یہ کہ بہت سے نیک اعمال حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کم کرتے تھے تاکہ امت پر دشواری نہ ہو ان پر آسانی رہے۔چوتھے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ اسلام حقوق ازواج اور سلطنت کے انتظام، مہمانوں کی تواضع میں زیادہ مشغول رہتے تھے جس کی وجہ سے روزے کبھی کم رکھتے تھے۔پانچویں یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے اعمال پر وہ ثواب ملتا تھا جو دوسروں کو زیادہ اعمال پر بھی نہیں ملتا۔ممکن تھا کہ وہ سائل حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے سن کر انہیں کم سمجھتا جیسے بعض لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات سن کر انہیں کم جانا۔(مرقات و اشعہ ولمعات)
۲؎یعنی میں سارے مسلمانوں کی طرف سے عرض کرتا ہوں کہ ہم سے جو بے ادبیاں سرزد ہوجاتی ہیں ان کی وجہ یہ نہیں کہ ہمیں آپ کے مراتب کا انکار ہے بلکہ محض درباری آداب سے ناواقفیت کی بنا پر ہے۔اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا۔شعر
سرکار ہم گنواروں میں طرز ادب کہاں ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے
مرقات نے یہاں فرمایا کہ چونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی پر رب تعالٰی بھی ناراض ہوجاتا ہے اس لیے جناب عمر نے اللہ کے غضب کا بھی ذکر کیا۔خیال رہے کہ اللہ رسول کے غضب سے سوائے رب کی بارگاہ کے کہیں پناہ نہیں مل سکتی۔
۳؎معلوم ہوا کہ عاجزی اور خوشامد بڑی اکسیرہے۔شعر
عجز کار انبیاء و اولیاء ست
عاجزی محبوب درگاہ خداست
۴؎ایسا شخص ہمیشہ دن میں کھانے سے محروم رہا اور روزوں کا ثواب بھی نہ پاسکاکیونکہ سال میں پانچ دن روزے منع تھے وہ ان دنوں میں بھی روزے رکھ گیا گنہگار ہوا یا یہ حکم اس کے متعلق ہے جو ہمیشہ کے روزوں پر قادر نہ ہو بہت مشقت اٹھاکر اورنفس کو ہلاکت میں ڈال کر روزے رکھے اور ان روزوں کی وجہ سے حق والوں کے حقوق ادا نہ کرسکے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضرت ابو طلحہ انصاری اور حمزہ ابن عمرو اسلمی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میں ان پانچ دنوں کے سواء ہمیشہ روزے رکھتے تھے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مطلع ہونے پر منع نہ کیا،نیز بیہقی شریف میں ہے کہ جو ہمیشہ روزے رکھے اس پر دوزخ ایسی تنگ ہوجائے گی جیسے نوے کاعدد کہ کلمہ کی انگلی کا کنارہ انگوٹھے کی جڑ میں لگادیا جائے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہ تنبیہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ہمیشہ روزے رکھنے کی وجہ سے ایسے عادی ہوجائیں کہ انہیں روزے میں تکلیف محسوس نہ ہو۔(لمعات و مرقات)لہذا امام اعظم ابوحنیفہ کا چالیس سال مسلسل روزے رکھنا اس عتاب کی زد میں نہیں آتا۔
۵؎یعنی عام لوگوں پربھی دشوار ہے اس سے بھی لوگوں کے سارے کاروبار بند ہوجائیں گے۔اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ ممانعت کی وجہ لوگوں کی کمزوری ہے اگر کسی میں ہمیشہ روزے رکھنے کی طاقت ہو جس سے اس کا کوئی کام بند نہ ہو تو اس کے لیے وہی افضل ہے۔
۶؎یعنی آپ ہمیشہ یوں ہی روزے رکھتے تھے یہ بہتر طریقہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ عوام پر یہ بھی مشکل ہے یہ تو داؤد علیہ اسلام ہی تھے جو اس طرح روزے رکھ گئے دوسرے معنے زیادہ ظاہر ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہورہا ہے اور دوسری حدیثیں پہلے معنے کی تائیدکرتی ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین روزے داؤد علیہ السلام کے ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ عمل اتنا کرو جوتمہیں علم سے نہ روکے اور علم میں اتنے مشغول ہونا جو تمہیں اعمال سے نہ روکے،درمیانی چال اچھی۔
۷؎یعنی مجھ پر امت کا بوجھ،ازواج کے حقوق،مملکت کے انتظامات نہ ہوتے تو میں اسی طرح روزے رکھا کرتا،اگر میں ایسے روزے رکھنے لگوں تو کمزور مسلمان بھی اس سنت پر عمل کرنے لگیں جس سے ان کے کاروبار بند ہوجائیں گے۔یہاں طاقت رکھنے سے مرادموقعہ پاناہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم روزہ وصال رکھاکرتے تھے کہ وہ ہمیشہ نہ رکھتے تھے کبھی کبھی،پھربھی صحابہ کو اس سے منع فرمادیا لہذا اس عبادت سے کوئی دھوکہ نہ کھائے اور یہ نہ سمجھے کہنعوذباللهحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کمزور تھے اور آپ میں ان روزوں کی بھی طاقت نہ تھی۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامان حضرت بایزید بسطامی نے ایک بار تین سال تک پانی نہ پیا،اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان صاحب قدس سرہ نے ایک بار انتیس دن کچھ نہ کھایا اورکسی کام میں فرق نہ آیا۔یہ واقعہ مجھے میرے مرشد برحق صدرالافاضل مولانا نعیم الدین صاحب نے فرمایا۔ہر مہینہ کی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں تاریخ کے روزے رکھ لیے جائیں اور پورے ماہ رمضان کے روزے رکھے جائیں تو اس سے ساری عمر کے روزوں کا ثواب مل جاتا ہے۔رب تعالٰی فرماتاہے:"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"۔جب ایک کا دس ملتا ہے توان شاء الله !تین روزوں میں تیس کا ثواب ملے گا اس حساب سے ساری عمر کے روزے ہوجائیں گے یہ سب رحمتیں اس رحمت والے محبوب کے صدقے سے ہیں۔صلی اللہ علیہ وسلم
۸؎پہلے عرض کیا جاچکا کہ یہصِیاممصدرہے نہ کہصومیاصائمکی جمع یعنی ذی الحجہ کی نو تاریخ کا روزہ اگلے پچھلے دو سال کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور اگر گناہ صغیرہ نہ ہوں تو درجے بلندکردیتاہے،گناہ کبیرہ بغیر توبہ اور بندوں کے حق بغیر ادا کئے معا ف نہیں ہوتے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ آئندہ ایک سال کے گناہ مٹانے کے معنے یہ ہیں کہ اسے گناہ سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث غیر حاجیوں کے لیے ہے حاجی کے لیے عرفات میں اس دن روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔
۹؎اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورے کے روزے سے نویں بقرعیدکا روزہ افضل ہےکیونکہ عاشورہ کا روزہ تو ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور عرفہ کا روزہ دو سال کا مگر عاشورہ کا دن عرفے کے دن سے بعض اعتبار سے افضل ہے۔لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلا ف نہیں جس میں عاشورے کے دن کی افضلیت بیان کی گئی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2044