Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2051

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَن يَصُومَ قَبْلَهُ أَو يَصُومَ بَعْدَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم:"لا يصوم أحدكم يوم الجمعة إلا أن يصوم قبله أو يصوم بعده". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے ۱؎مگر یہ کہ اس کے آگے پیچھے بھی روزہ رکھے ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نفلی روزہ صرف جمعہ کا نہ رکھے یا جمعرات جمعہ یا جمعہ ہفتہ دو دن روزے رکھے،اس کی تحقیق آگے آرہی ہے۔
۲
؎فتح القدیر میں ہے کہ امام ابوحنیفہ و امام محمد کے ہاں صرف جمعہ کا روزہ جائز ہے یہ ممانعت تنزیہی ہے وہ بھی بعض صورتوں میں جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔نفلی روزہ صرف جمعہ کا نہ رکھنا بہتر اس کی وجہ اللہ رسول ہی جانتے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ چونکہ یہ دن غسل کرنے،کپڑے بدلنے،خطبہ سننے،نماز جمعہ پڑھنے وغیرہ عبادات کا ہے ممکن ہے روزے کی وجہ سے بندہ یہ کام بخوبی انجام نہ دے سکے جیسے حاجی کے لیے عرفے کے دن روزہ رکھنا بہتر نہیں کہ وہ اس دن روزہ رکھ کر آج کے کام اچھی طرح نہ کرسکے گا۔شارحین نے اوربہت سی وجہیں بیان کی ہیں لیکن یہ وجہ زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔بعض نے فرمایا کہ یہود کے ہاں ہفتہ کا دن افضل ہے اور عیسائیوں کے ہاں اتوار بہتر،وہ لو گ ان دنوں میں روزے رکھتے ہیں اگر مسلمان اپنے افضل دن یعنی صرف جمعہ کا روزہ رکھیں تو ان سے مشابہت ہوجائے گی۔و الله اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2051