Main Icon

باب: نفلی روزے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2043

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عائشة قالت: ما رأيت رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- صائما في العشر قط. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو بقر عید کے عشرہ میں کبھی روزہ رکھتے نہ دیکھا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں ام المؤمنین اپنے علم کی نفی کررہی ہیں نہ کہ اصل روزے کی لہذا یہ حدیث نسائی کی اس روایت کے خلاف نہیں کہ آپ نویں بقر عید کو روزہ رکھتے تھے،نیز سرکار نے فرمایا کہ بقر عید کے پہلے عشرے کا ہر روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور اس میں ہر رات کا قیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ بعد رمضان بقر عید کے پہلے عشرے کی عزت ہے۔خیال رہے کہ اگر نفی اور ثبوت کی احادیث میں تعارض ہو تو ثبوت والی احادیث کو ترجیح ہوتی ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2043