Main Icon

باب :بارش مانگنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1501

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهٗ حَتّٰى أَصَابَهٗ مِنَ الْمَطَرِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ:”لِأَنَّهٗ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ”. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أنس قال: أصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مطر قال: فحسر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثوبه حتى أصابه من المطر فقلنا: يا رسول الله لم صنعت هذا؟ قال:”لأنه حديث عهد بربه”. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش برسی فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنا کپڑا شریف ہٹادیا تا آنکہ آپ پر کچھ بارش پڑگئی ہم نے عرض کیا یارسول الله آپ نے یہ کیوں کیا فرمایا کہ یہ ابھی اپنے رب کے پاس سے آئی ہے ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنا سر اور سینہ مبارک کھول کر کچھ قطرے ان اعضاء پرلیئے اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ پانی ابھی عالَم قدس سے آیا ہے،جس میں اِس عالَم کے اجزاء ابھی تک نہیں ملے،لہذا برکت والا ہے اس سے برکت حاصل کرو۔بعض حضرات حج سے آنے والوں کے ہاتھ پاؤں چومتے ہیں اور انکے بدن سے اپنے کپڑے لگاتے ہیں،بعض صوفیاء بیماروں کےلیئے نقش لکھ کر بارش کے پانی سے دھلواکر پلواتے ہیں،ان سب کی اصل یہ حدیث ہے،بارش کے وقت اور کعبہ کو دیکھ کر دعا مانگنا سنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1501