Main Icon

باب :بارش مانگنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1504

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلىٰ آبي اللَّحْمِ أَنَّهٗ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي رَافِعًا يَدَيْهِ قِبَلَ وَجْهِهٖ لَا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهٗ .رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُ وَالنَّسَائِيُّ نَحوَهٗ

وعن عمير مولى آبي اللحم أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يستسقي عند أحجار الزيت قريبا من الزوراء قائما يدعو يستسقي رافعا يديه قبل وجهه لا يجاوز بهما رأسه .رواه أبوداود وروى الترمذي والنسائي نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمیر سے جو کہ آبی اللحم کے مولیٰ ہیں ۱∞؎کہ انہوں نے زوراء کے قریب احجارالزیت کے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دعائے بارش کرتے دیکھا ۲؎آپ کھڑے ہوئے دعائیں کررہے تھے،اپنے چہرہ مبارک کے سامنے ہاتھ اٹھائے بارش مانگ رہے تھے ان ہاتھوں کو سر سے اونچا نہ کرتے ۳؎(ابوداؤد)اور ترمذی و نسائی نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎آبی اللحم کا نام عبد الله ابن عبدالملک ہے،چونکہ یہ زمانۂ جاہلیت میں بھی بتوں کے نام ذبیحہ کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس لیے آپ کا لقب آبی اللحم ہوا یعنی اس گوشت کے انکاری،آپ بڑے پرانے صحابی ہیں،غزوہ حنین میں شہید ہوئے،عمیر آپ کے آزادکردہ غلام ہیں،یہ دونوں حضرات صحابی ہیں۔۲؎احجارالزیت مدینہ منورہ کے حرّہ کا ایک حصہ ہے،چونکہ وہاں کے پتھر کالے چکنے اورچمکدارہیں گویا ان پرتیل مل دیا گیاہے اس لیے اسے احجارالزیت کہتےہیں یعنی تیل ملے ہوئے پتھر۔زوراء کی تحقیقباب الجمعہمیں ہوچکی۔۳؎یعنی اس وقت نماز نہ پڑھی،صرف دعا مانگی اور ہاتھ سر کے مقابل رکھے۔خیال رہے کہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے کبھی ہاتھ مبارک سر کے برابر رکھے ہیں، کبھی سر سےبھی اونچے اٹھائے ہیں،لہذا یہ حدیث سر سے اونچے اٹھانے کی حدیث کے خلاف نہیں کہ کبھی وہ عمل تھا کبھی یہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1504