Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2278

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلٰى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ قَالُوْا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللّٰهَ. قَالَ: اٰللّٰهَ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذٰلِكَ؟ قَالُوْا: اٰللّٰهَ مَا أَجْلَسَنَا غَيْرُهٗ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لم أسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- خَرَجَ عَلٰى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهٖ فَقَالَ: "مَا أَجْلَسَكُمْ هَاهُنَا؟ ! قَالُوْا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللّٰهَ وَنَحْمَدُهٗ عَلٰى مَا هَدَانَا لِلإِسْلَامِ وَمَنَّ بِهٖ عَلَيْنَا. قَالَ: "اللّٰهَ مَا أجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِك؟ " قَالُوْا: اٰللّٰهَ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذٰلِكَ، قَالَ: "أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهمَةً لَكُمْ، وَلَكِنَّهٗ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللّٰهَ عزَّ وَجَلَّ يُبَاهِيْ بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن أبي سعيد قال: خرج معاوية على حلقة في المسجد فقال: ما أجلسكم؟ قالوا: جلسنا نذكر الله. قال: الله ما أجلسكم إلا ذلك؟ قالوا: الله ما أجلسنا غيره، قال: أما إني لم أستحلفكم تهمة لكم، وما كان أحد بمنزلتي من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أقل عنه حديثا مني، وإن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خرج على حلقة من أصحابه فقال: "ما أجلسكم هاهنا؟ ! قالوا: جلسنا نذكر الله ونحمده على ما هدانا للإسلام ومن به علينا. قال: "الله ما أجلسكم إلا ذلك؟ " قالوا: الله ما أجلسنا إلا ذلك، قال: "أما إني لم أستحلفكم تهمة لكم، ولكنه أتاني جبريل فأخبرني أن الله عز وجل يباهي بكم الملائكة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ مسجد میں ایک حلقہ پرگزرے ۱؎پوچھا تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھایا ہے وہ بولے ہم اللہ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں ۲؎فرمایا کیا خدا کی قسم تمہیں اسی چیز نے بٹھایا ہے بولے اللہ کی قسم ہمیں اس کے سوا کسی اور چیز نے نہ بٹھایا ۳؎فرمایا میں نے تم پر تہمت کی بنا پر تم سے قسم نہ لی۴؎ایسا کوئی نہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مجھ جیسا قرب ہو۵؎پھر وہ آپ سے احادیث مقابلہ کرے کم روایت کرے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ کے ایک حلقہ پرتشریف لائے تو پوچھا تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھایا وہ بولے ہم اللہ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں اس کا شکر کررہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی ہم پر بڑا احسان کیا ۶؎فرمایا کیا خدا کی قسم تمہیں صرف اس چیز نے بٹھایا ہے وہ بولے اللہ کی قسم ہم کو اس کے سواءکسی اور چیز نہ بٹھایا فرمایا میں نے تم پر تہمت رکھتے ہوئے تم سے قسم نہ لی ۷؎لیکن میرے پاس جبریل آئے انہوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تم سے فرشتوں پر فخر کررہا ہے ۸؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎کہ کچھ لوگ مسجد نبوی یا کسی اور مسجد میں ذکر اللہ کے لیے حلقہ بنائے بیٹھے تھے،نماز کے انتظار میں نہ بیٹھے تھے،کیونکہ اس وقت صف بستہ بیٹھنا چاہیئے حلقہ بنانا منع ہے،لہذا یہ حدیث حلقہ بنانے کی ممانعت کی حدیث کے خلاف نہیں۔
۲
؎اس طرح کہ ایک صاحب ذکر خیرکررہے ہیں اور باقی حضرات سن رہے ہیں،گویا مجلس وعظ کی مجلس ہے یا باری باری سے ہرشخص ذکر اللہ کررہا ہے یا سب ملکرکلمہ طیبہ وغیرہ پڑھ رہے ہیں۔
۳
؎پہلےاللهاصل میںأو اللهتھا ہمزہ استفہامیہ واؤ قسمیہ،واؤ کوالف سے بدل دیا گیا،اور لفظ اللہ کو جر ہے بعض نسخوں میں زبر بھی ہے اس کی دوسری توجیہ ہے یعنی کیا خدا کی قسم تم لوگ صرف ذکر کے لیے ہی بیٹھے ہو دوسرے اللہ کی اصل عبارت یہ ہےاِوِیْیانعم نقسم بالله ۔۴؎یعنی میں نے آپ حضرات کو جھوٹا سمجھ کر قسم نہ لی ہے آپ حضرات صحابہ کرام ہیں صحابہ سب عادل ہیں بلکہ ادائے سنت کے لیے یہ قسم لی ہے۔
۵
؎کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا سالا بھی ہوں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا بھائی ہوں اور کاتب وحی بھی ہوں اسی لیے مولانا روم نے حضرت امیر معاویہ کو مسلمانوں کا ماموں فرمایا مگر روایت حدیث بہت کم کرتا ہوں احتیاط کے لیے دیکھو حضرت ابوبکر صدیق عمر بھر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے مگر آپ نے روایت حدیث بہت کم فرمائیں،اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت امیرمعاویہ کو حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق سے بھی زیادہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرب رہا ہو،بلکہ آپ جن لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں یا جو آپ کے زمانہ میں صحابہ موجود تھے ان کے مقابلہ میں اپنی جزوی فضیلت قرب بیان فرمارہے ہیں۔ خیال رہے کہ جن صحابہ نے حدیث کی روایت بالمعنی جائز سمجھی تھی وہ احادیث زیادہ روایت کرتے تھے اور جن کے نزدیک روایت بالمعنی جائز نہ تھی وہ بہت کم روایت کرتے تھے حضرت امیر معاو یہ دوسری جماعت سے ہیں۔
۶
؎معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کی سب سے بڑی نعمت ہدایت ایمان ہے اور سب سے بڑا احسان حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم کا دامن پاک ہاتھ آجانا ہے،خود فرماتاہے:"بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمْ اَنْ هَدٰىکُمْ لِلْاِیۡمَانِ"اور فرماتاہے:"لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ اِذْ بَعَثَ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا"۔ایمان اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری کے سواء کسی اور نعمت پر رب تعالٰی نے لفظمنارشاد نہیں فرمایا۔شعر
رب اعلیٰ کی نعمت پر اعلیٰ درود حق تعالٰی کی منت پہ لاکھوں سلام
یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری کے شکریہ کے لیے مجلسیں کرنا حلقے بنا کر بیٹھنا سنت صحابہ ہے یہ حدیث مجلس میلاد شریف کی اصل ہے۔
۷
؎کیونکہ ہر مؤمن پر عمومًا اور صحابہ کرام پر خصوصًا بدگمانی کرنا جائز نہیں بلکہ یہ قسم نہیں تمہاری عظمت و عزت کے اظہار کے لیے ہے۔
۸
؎اس طرح کہ فرشتوں سے فرمارہا ہے میرے ان بندوں کو دیکھو کہ نفس و شیطان کے تسلط میں ہیں،دنیاوی رکاوٹیں موجود ہیں، شہوت و غضب رکھتے ہیں اتنی رکاوٹیں ہوتے ہوئے سب پر لات مار کر میرا ذکر کررہے ہیں یقینًا تمہارے ذکر سے میرا ذکر افضل ہے،چونکہ فرشتوں ہی نے انسان کی شکایت کی تھی کہ وہ خون ریزو فسادی ہوگا اس لیے انہی کو یہ سنایا جارہا ہے کہ دیکھو اگر انسان میں فسادی ہیں تو ایسے نمازی و غازی بھی ہیں جو نفس و شیطان و طغیان و کفار سب سے ہی جہاد کرتے رہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2278