- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2278
باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2278
دعاؤں کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلٰى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ قَالُوْا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللّٰهَ. قَالَ: اٰللّٰهَ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذٰلِكَ؟ قَالُوْا: اٰللّٰهَ مَا أَجْلَسَنَا غَيْرُهٗ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لم أسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- خَرَجَ عَلٰى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهٖ فَقَالَ: "مَا أَجْلَسَكُمْ هَاهُنَا؟ ! قَالُوْا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللّٰهَ وَنَحْمَدُهٗ عَلٰى مَا هَدَانَا لِلإِسْلَامِ وَمَنَّ بِهٖ عَلَيْنَا. قَالَ: "اللّٰهَ مَا أجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِك؟ " قَالُوْا: اٰللّٰهَ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذٰلِكَ، قَالَ: "أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهمَةً لَكُمْ، وَلَكِنَّهٗ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللّٰهَ عزَّ وَجَلَّ يُبَاهِيْ بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عن أبي سعيد قال: خرج معاوية على حلقة في المسجد فقال: ما أجلسكم؟ قالوا: جلسنا نذكر الله. قال: الله ما أجلسكم إلا ذلك؟ قالوا: الله ما أجلسنا غيره، قال: أما إني لم أستحلفكم تهمة لكم، وما كان أحد بمنزلتي من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أقل عنه حديثا مني، وإن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خرج على حلقة من أصحابه فقال: "ما أجلسكم هاهنا؟ ! قالوا: جلسنا نذكر الله ونحمده على ما هدانا للإسلام ومن به علينا. قال: "الله ما أجلسكم إلا ذلك؟ " قالوا: الله ما أجلسنا إلا ذلك، قال: "أما إني لم أستحلفكم تهمة لكم، ولكنه أتاني جبريل فأخبرني أن الله عز وجل يباهي بكم الملائكة". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ مسجد میں ایک حلقہ پرگزرے ۱؎پوچھا تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھایا ہے وہ بولے ہم اللہ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں ۲؎فرمایا کیا خدا کی قسم تمہیں اسی چیز نے بٹھایا ہے بولے اللہ کی قسم ہمیں اس کے سوا کسی اور چیز نے نہ بٹھایا ۳؎فرمایا میں نے تم پر تہمت کی بنا پر تم سے قسم نہ لی۴؎ایسا کوئی نہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مجھ جیسا قرب ہو۵؎پھر وہ آپ سے احادیث مقابلہ کرے کم روایت کرے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ کے ایک حلقہ پرتشریف لائے تو پوچھا تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھایا وہ بولے ہم اللہ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں اس کا شکر کررہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی ہم پر بڑا احسان کیا ۶؎فرمایا کیا خدا کی قسم تمہیں صرف اس چیز نے بٹھایا ہے وہ بولے اللہ کی قسم ہم کو اس کے سواءکسی اور چیز نہ بٹھایا فرمایا میں نے تم پر تہمت رکھتے ہوئے تم سے قسم نہ لی ۷؎لیکن میرے پاس جبریل آئے انہوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تم سے فرشتوں پر فخر کررہا ہے ۸؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎کہ کچھ لوگ مسجد نبوی یا کسی اور مسجد میں ذکر اللہ کے لیے حلقہ بنائے بیٹھے تھے،نماز کے انتظار میں نہ بیٹھے تھے،کیونکہ اس وقت صف بستہ بیٹھنا چاہیئے حلقہ بنانا منع ہے،لہذا یہ حدیث حلقہ بنانے کی ممانعت کی حدیث کے خلاف نہیں۔
۲؎اس طرح کہ ایک صاحب ذکر خیرکررہے ہیں اور باقی حضرات سن رہے ہیں،گویا مجلس وعظ کی مجلس ہے یا باری باری سے ہرشخص ذکر اللہ کررہا ہے یا سب ملکرکلمہ طیبہ وغیرہ پڑھ رہے ہیں۔
۳؎پہلےاللهاصل میںأو اللهتھا ہمزہ استفہامیہ واؤ قسمیہ،واؤ کوالف سے بدل دیا گیا،اور لفظ اللہ کو جر ہے بعض نسخوں میں زبر بھی ہے اس کی دوسری توجیہ ہے یعنی کیا خدا کی قسم تم لوگ صرف ذکر کے لیے ہی بیٹھے ہو دوسرے اللہ کی اصل عبارت یہ ہےاِوِیْیانعم نقسم بالله ۔۴؎یعنی میں نے آپ حضرات کو جھوٹا سمجھ کر قسم نہ لی ہے آپ حضرات صحابہ کرام ہیں صحابہ سب عادل ہیں بلکہ ادائے سنت کے لیے یہ قسم لی ہے۔
۵؎کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا سالا بھی ہوں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا بھائی ہوں اور کاتب وحی بھی ہوں اسی لیے مولانا روم نے حضرت امیر معاویہ کو مسلمانوں کا ماموں فرمایا مگر روایت حدیث بہت کم کرتا ہوں احتیاط کے لیے دیکھو حضرت ابوبکر صدیق عمر بھر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے مگر آپ نے روایت حدیث بہت کم فرمائیں،اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت امیرمعاویہ کو حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق سے بھی زیادہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرب رہا ہو،بلکہ آپ جن لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں یا جو آپ کے زمانہ میں صحابہ موجود تھے ان کے مقابلہ میں اپنی جزوی فضیلت قرب بیان فرمارہے ہیں۔ خیال رہے کہ جن صحابہ نے حدیث کی روایت بالمعنی جائز سمجھی تھی وہ احادیث زیادہ روایت کرتے تھے اور جن کے نزدیک روایت بالمعنی جائز نہ تھی وہ بہت کم روایت کرتے تھے حضرت امیر معاو یہ دوسری جماعت سے ہیں۔
۶؎معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کی سب سے بڑی نعمت ہدایت ایمان ہے اور سب سے بڑا احسان حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم کا دامن پاک ہاتھ آجانا ہے،خود فرماتاہے:"بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمْ اَنْ هَدٰىکُمْ لِلْاِیۡمَانِ"اور فرماتاہے:"لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ اِذْ بَعَثَ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا"۔ایمان اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری کے سواء کسی اور نعمت پر رب تعالٰی نے لفظمنارشاد نہیں فرمایا۔شعر
رب اعلیٰ کی نعمت پر اعلیٰ درود حق تعالٰی کی منت پہ لاکھوں سلام
یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری کے شکریہ کے لیے مجلسیں کرنا حلقے بنا کر بیٹھنا سنت صحابہ ہے یہ حدیث مجلس میلاد شریف کی اصل ہے۔
۷؎کیونکہ ہر مؤمن پر عمومًا اور صحابہ کرام پر خصوصًا بدگمانی کرنا جائز نہیں بلکہ یہ قسم نہیں تمہاری عظمت و عزت کے اظہار کے لیے ہے۔
۸؎اس طرح کہ فرشتوں سے فرمارہا ہے میرے ان بندوں کو دیکھو کہ نفس و شیطان کے تسلط میں ہیں،دنیاوی رکاوٹیں موجود ہیں، شہوت و غضب رکھتے ہیں اتنی رکاوٹیں ہوتے ہوئے سب پر لات مار کر میرا ذکر کررہے ہیں یقینًا تمہارے ذکر سے میرا ذکر افضل ہے،چونکہ فرشتوں ہی نے انسان کی شکایت کی تھی کہ وہ خون ریزو فسادی ہوگا اس لیے انہی کو یہ سنایا جارہا ہے کہ دیکھو اگر انسان میں فسادی ہیں تو ایسے نمازی و غازی بھی ہیں جو نفس و شیطان و طغیان و کفار سب سے ہی جہاد کرتے رہتے ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2278