Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2265

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰى: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيْدُ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزاءُ سَيِّئَةٍ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّيْ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّيْ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِيْ يَمْشِيْ أَتَيْتُهٗ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِيْ بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطِيْئَةً لَا يُشْرِكُ بِيْ شَيْئًا لَقِيْتُهٗ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يقول الله تعالى: من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها وأزيد، ومن جاء بالسيئة فجزاء سيئة مثلها أو أغفر، ومن تقرب مني شبرا تقربت منه ذراعا، ومن تقرب مني ذراعا تقربت منه باعا، ومن أتاني يمشي أتيته هرولة، ومن لقيني بقراب الأرض خطيئة لا يشرك بي شيئا لقيته بمثلها مغفرة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہتعالٰی فرماتا ہے جو ایک نیکی کرے اسے دس گناہ ثواب ہے اور زیادہ بھی دوں گا ۱؎اور جو ایک گناہ کرے تو ایک برائی کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے یا اسے بخش دوں ۲؎اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس کے ایک گز نزدیک ہوجاتا ہوں اورجو مجھ سے ایک گز نزدیک ہو تاہے تو میں اس سے ایک باغ قریب ہوجاتا ہوں۳؎جو میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے میں اس کی طرف دوڑتا ہوں۴؎اور جو کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرائے پھر زمین بھر گناہ لے کر مجھ سے ملے تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ اس سے ملوں گا۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نیکی کرنے والے مسلمان کو ایک کا دس تو قانونًا وعدلًا دیا جائے گا اور اس کے علاوہ فضل و کرم سے بطور انعام عطا ہوگا جو ہمارے گمان و وہم سے وراء ہے۔خیال رہے کہ ایک کا دس گناہ عام حالات میں ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"اور کبھی زمانہ یا جگہ کی خصوصیت سے ایک نیکی کا عوض سات سو یا پچاس ہزار بلکہ ایک لاکھ تک ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔یہ صرف نیکی کا عوض نہیں بلکہ اس و قت یا جگہ کی خصوصیت بھی ہے لہذا نہ تو گزشتہ مذکورہ آیتیں آپس میں متعارض ہیں اور نہ یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف جن میں فرمایا گیا کہ مدینہ پاک کی ایک نیکی کا ثواب پچاس ہزار ہے یا مکہ مکرمہ کی ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ۔
۲
؎یہاں بھیمنسے مراد مؤمن ہے اور عام گناہ مراد ہیں عام حالات میں مؤمن کے ایک گناہ کا عوض ایک ہی ہے یا وہ بھی بخشش دیا جائے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ مکہ معظمہ کا ایک گناہ ایک لاکھ ہے۔
۳
؎جب انسان دونوں ہاتھ سیدھے کرکے پھیلائے تو داہنے ہاتھ کی انگلی سے بائیں ہاتھ کی انگلی تک کو باغ کہتے ہیں یہ کلام تمثیلی طور پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ تھوڑے عمل کے ذریعے قرب الٰہی حاصل کرو تو رب تعالٰی اپنے کرم سے بہت زیادہ رحمت کے ساتھ تم سے قریب ہوگا۔لہذا عمل کئے جاؤ تھوڑا بہت نہ دیکھو۔
۴
؎یہ کلام بطور مثال سمجھانے کے لیے ہے مطلب یہ ہے کہ تمہاری طلب سے ہماری رحمت سبقت لے گئی ہے،اگر تم ایسے معمولی اعمال کرو جن سے بدیر ہم تک پہنچ سکو تو ہم تم کو اپنے کرم سے بہت جلد اپنے دامن رحمت میں لے لیں گے اگر رب تعالٰی سے قرب ہماری کوشش سے ہوتا تو قیامت تک ہم اس تک نہ پہنچ سکتے،اس تک رسائی اس کی رحمت سے ہے۔
۵
؎یہاں شرک سے مراد کفر ہے،اور بخشش سے مراد مطلقًا بخشش ہے جلد ہو یا دیر سے یعنی مسلمان کتنا ہی گنہگار ہو اس کی بخشش ضرور ہوگی خواہ پہلے ہی سے ہوجائے یا کچھ سزا دے کر اور ظاہر ہے کہ بخشش بقدر گناہ ہوگی،ایک گناہ کی بخشش بھی ایک اور لاکھوں گناہوں کی بخشش بھی لاکھوں۔مقصد یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا گنہگار بھی رحمت الٰہی سے ناامید نہ ہو بلکہ بخشش کی امید پر توبہ کرلے۔یہ مقصد نہیں کہ بخشش حاصل کرنے کے لیے خوب گناہ کرے کہ یہ تو خدا پر امن ہے اور امن کفر ہے لہذا یہ حدیث گناہوں کی آزادی دینے کے لیے نہیں بلکہ توبہ کی دعوت دینے کے لیے ہے رب فرماتاہے:"لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ"۔ خیال رکھو کہ رب تعالٰی کی رحمت بھی وسیع ہے اور اس کا عذاب بھی سخت ہے نہ معلوم رحمت کسے پہنچے عذاب کسے پکڑے،لہذا امید و خوف دونوں رکھو اس معجون مرکب کا نام ایمان ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2265