Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1861

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَنْفِقِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللّٰهُ عَلَيْكِ، وَلَا تُوْعِيْ فَيُوْعِيَ اللّٰهُ عَلَيْكِ، ارْضَخِيْ مَا اسْتَطَعْتِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أسماء قالت: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "أنفقي ولا تحصي فيحصي الله عليك، ولا توعي فيوعي الله عليك، ارضخي ما استطعت". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب خرچ کرو مت گنو ورنہ اللہ تعالٰی بھی شمار فرمائے گا ۱؎ اور نہ بچاؤ ورنہ اللہ بھی تم سے بچائے گا جتنا کرسکتی ہو راہِ خدا میں دو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اے اسماء اپنے مال میں سے مطلقًا اور اپنے خاوند کے مال سے بقدر اجازت خرچ کرتی رہونفلی صدقہ کا حساب نہ لگاؤ ورنہ شیطان دل میں بخل پیدا کردے گا لہذا یہ حدیث زکوۃ کے حساب کے خلاف نہیں،بے حساب اللہ کے نام پر دو تو وہاں سے تمہیں اتنا ملے گا کہ تم حساب نہ کرسکو گی،یہ مطلب نہیں کہ رب تعالٰی کے حساب سے باہر ہوگا۔کھیت میں پانی دیتے وقت ایک شخص کنوئیں سے پانی چھوڑتا ہے اور دوسرا کیاریوں میں پھیلاتا ہے جب تک یہ پھیلاتا رہتا ہے وہاں سے پانی آتا رہتا ہے،دینی راستے اللہ کی کیاریاں ہیں مالدار لوگ ان میں پانی پھیلانے والے ہیں اور روزی پہنچانے والے فرشتے پانی چھوڑنے والے۔
۲
؎یعنی یہ خیال نہ کرو کہ اتنی تھوڑی اور معمولی چیز اتنی بڑی بارگاہ میں کیا پیش کر وں وہاں مال کی مقدار نہیں دیکھی جاتی دل کا اخلاص دیکھا جاتاہے۔خیال رہے کہ رب تعالٰی فرماتاہے:"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ"جب تک کہ اپنی پیاری چیز خیرات نہ کرو بھلائی نہیں پاسکتے،اور جہاں حکم دیا گیا کہ جو ہوسکے خیرات کرو ان دونوں میں تعارض نہیں۔آیت کا منشاء یہ ہے کہ ہمیشہ معمولی چیز ہی خیرات نہ کرو اچھی چیزیں بھی خیرات کرو اور اس حدیث کا منشاء یہ ہے کہ بڑی چیز کی انتظار میں چھوٹی خیراتوں سے باز نہ رہو جو چیز کھانے پینے سے بچ رہی اس کے بگڑ جانے کا خطرہ ہے فورًا کسی کو دے دو ورنہ برباد ہوجائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1861