Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2784

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: كَانَتْ لِمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ جَارِيَةٌ تَبِيعُ اللَّبَنَ وَيَقْبِضُ الْمِقْدَامُ ثَمَنَهٗ فَقِيلَ لَهٗ: سُبْحَانَ اللّٰهِ أَتَبِيعُ اللَّبَنَ؟ وَتَقْبِضُ الثَّمَنَ؟ فَقَالَ نَعَمْ وَمَا بَأْسٌ بِذٰلِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إِلَّا الدِّينَارُ وَالدِّرْهَم» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن أبي بكر بن أبي مريم قال: كانت لمقدام بن معدي كرب جارية تبيع اللبن ويقبض المقدام ثمنه فقيل له: سبحان الله أتبيع اللبن؟ وتقبض الثمن؟ فقال نعم وما بأس بذلك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ليأتين على الناس زمان لا ينفع فيه إلا الدينار والدرهم» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکر ابن ابی مریم سے فرماتے ہیں کہ حضرت مقدام ابن معد یکرب کی ایک لونڈی تھی ۱؎دودھ بیچتی تھی اور حضرت مقدام اس کی قیمت لیتے تھے ان سے کہا گیاسُبْحَانَ اللّٰهِآپ دودھ بیچتے ہیں اور اس کی قیمت پر قبضہ کرتے ہیں ۲؎فرمایا ہاں اس میں کوئی مضائقہ نہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں پر ایک وہ زمانہ آئے گا جس میں صرف روپیہ پیسہ ہی نفع دے گا ۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ابوبکر تابعی ہیں،ان کا ذکر مصنف نے اکمال میں نہیں کیا اور حضرت مقداد مشہور صحابی ہیں۔لونڈی سے مراد مملوکہ لونڈی ہے جسے آپ نے خرید و فروخت کی اجازت دی تھی،اس قسم کے غلام کو فقہاءعبد ماذونکہتے ہیں۔
۲
؎شاید اس زمانہ میں اہلِ عرب دودھ کی تجارت کو ناپسند کرتے تھے جیسے آج کل پنجاب میں بھی ذی حیثیت لوگ دودھ بیچنے کو ناپسند کرتے ہیں،گھی فروخت کرتے ہیں یا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ جیسے عظمت والے لوگوں کو چاہیے کہ دودھ مفت دیا کریں کیونکہ اس میں خیر کثیر ہے اس پر قیمت کیسی ؟
۳
؎خلاصہ جواب یہ ہے کہ جس کاروبار سے اللّٰه رسول منع نہ فرمائیں وہ حلال ہے،عرف یا خیالات سے کوئی شے حرام نہیں ہوجاتی اور اب زمانہ ایسا آگیا کہ کمال نہیں دیکھا جاتا مال کی قدر ہوتی ہے،مالدار عالم کی تبلیغ ووعظ مؤثر ہے تو ہمیں چاہیے کہ مال کما کر کمال پھیلائیں،اللّٰه اکبر جب زمانہ صحابہ میں یہ حال ہوچکا تھا تو اس زمانہ کا کیا پوچھنا،اب تو مبلغین علماء کے لیے فقیری زہر قاتل ہے مالدار عالم کا وعظ بھی مؤثر ہوتا ہے۔علماء کو چاہیے کہ فقیر و ناداری سے بچیں،حلال ذریعوں سے مال ضرور حاصل کریں۔مرقات نے فرمایا کہ علماء سلف فرماتے تھے خوب تجارتیں اور کمائیاں کرو کیونکہ تم ایسے زمانہ میں ہو جب کہ حاجت مند پہلے اپنے دین کو ہی کھا جاتا ہے، ایک بار حضرت سفیان ثوری کچھ اشرفیاں اپنے ہاتھوں میں الٹ پلٹ رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اگر میرے پاس یہ مال نہ ہوتا تو بنی عباس مجھے رومال بنالیتے کہ مجھ سے اپنے میل پونچھا کرتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2784