Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2763

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيْثٌ وَمَهْرُ الْبَغْيِ خَبِيْثٌ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيْثٌ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن رافع بن خديج قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثمن الكلب خبيث ومهر البغي خبيث وكسب الحجام خبيث . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کتے کی قیمت خسیس ہے اور زانیہ کی خرچی حرام اور فصد لینے والے کی اجرت خسیس ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور انصاری،صحابی ہیں،غزوہ بدر میں صغرسنی کے باعث شریک نہ ہوسکے،باقی احد وغیرہ تمام غزوات میں شریک رہے،غزوہ احد میں تیر سے زخمی ہوئے تو حضور انور نے فرمایا کہ میں قیامت میں تمہارے زخم و ایمان کا گواہ ہوں،یہ ہی زخم عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں پھر ہرا ہوگیا اور اس زخم سے ۷۴ھ؁∞ میں چھیاسی سال کی عمر میں وفات مدینہ منورہ میں پائی،آپ سے بہت احادیث مروی ہیں۔
۲
؎خبیث طیب کا مقابل ہے،طیب کے دو معنے ہیں حلال اور نفیس لہذا اس کے مقابل خبیث کے بھی دو معنے ہیں حرام اور خسیس رنڈی کے زنا کی اجرت بالاتفاق حرام ہے اور فصد لینے والی کی اجرت بالاتفاق ناپسندیا مکروہ ہے،کتے کی قیمت میں اختلاف ہے امام شافعی کے ہاں حرام ہے،ہمارے ہاں حلال مگر ناپسندیدہ لہذا لفظ خبیث یہاں بطریق عموم مشترک دونوں معنے میں استعمال ہوا،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خود فصد لے کر اس کی اجرت عطا فرمائی اور یہاں اسے خبیث فرمایا بمعنی ناپسندیدہ،وہ عمل بیان جواز کے لیے تھا یہ فرمان کراہت کے لیے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2763