Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2773

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلٰى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى الدَّارِمِيُّ الْفَصْلَ الأَوَّلَ

وعن الحسن بن علي قال: حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم: «دع ما يريبك إلى ما لا يريبك فإن الصدق طمأنينة وإن الكذب ريبة» . رواه أحمد والترمذي والنسائي وروى الدارمي الفصل الأول

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسن ابن علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ایک یہ بات یاد کی ہے ۱؎کہ اسے چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے ادھر رجوع کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے ۲؎کیونکہ سچ اطمینان ہے اور جھوٹ تردد ہے ۳؎(احمد، ترمذی،نسائی)اور دارمی نے پہلی چیز روایت فرمائی۔

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ آپ نے بلاواسطہ حضور سے یہ سنا اور یاد کیا کیونکہ حضور انور کی زندگی شریف میں امام حسن علیہ السلام قدرے سمجھدار تھے،بچوں کا حدیث سننا معتبر ہے جب کہ کچھ سمجھدار ہوں اور ہوسکتا ہے کہ آپ نے کسی صحابی سے سنا ہو،چونکہ یہ قول رسول تھا اس لیے اسے حضور کی طرف نسبت فرمادیا جیسے ہم کہہ دیتے ہیں کہ حضور نے یہ فرمایا یا ہمیں حضور کا یہ فرمان یاد ہے۔
۲
؎یعنی جو کام یا کلام تمہارے دل میں کھٹکے کہ نہ معلوم حرام ہے یا حلال اسے چھوڑ دو اور جس پر دل گواہی دے کہ یہ ٹھیک ہے اسے اختیار کرو مگر یہ ان حضرات کے لیے ہے جو حضرت حسن جیسی قوت قدسیہ و علم لدنی والے ہوں جن کا فیصلہ قلب کتاب و سنت کے مطابق ہو،عام لوگ یا جو نفسانی و شیطانی وہمیات میں پھنسے ہوں ان کے لیے یہ قاعدہ نہیں۔(مرقات و اشعہ)بعض لاپرواہ لوگ قطعی حراموں میں کوئی تردد نہیں کرتے اور بعض وہم پرست جائز چیزوں کو بلاوجہ حرام و مشکوک سمجھ لیتے ہیں ان کے لیے یہ قاعدہ نہیں ہے،لہذا حدیثیں واضح ہے۔
۳
؎یعنی مؤمن کامل کا دل سچے کام و سچے کلام سے مطمئن ہوتا ہے اور مشکوک اشیاء سے قدرتی طور پر متردد ہوتا ہے۔ یہاں لمعات میں فرمایا گیا کہ جب آیتوں میں تعارض معلوم ہوتا ہو تو حدیث کی طرف رجوع کرو اور حدیثیں بھی متعارض نظر آئیں تو اقوال علماء کو تلاش کرو اور اگر ان میں بھی تعارض نظر آئے تو اپنے دل سے فتویٰ لو اور احتیاط پر عمل کرو،یہ سارے احکام صاف دل اور پاکیزہ نفوس کے لیے ہیں۔(لمعات مختصرًا)اگر کسی کو جھوٹ سے اطمینان ہو اور گناہ سے خوشی ہو،نیکیوں سے دل گھبرائے تو وہ دل کی آواز نہیں بلکہ نفس امارہ کی شرارت ہے،نفس اگر دل پر غالب آجائے تو بہت پریشان کرتا ہے اور اگر دل نفس پر غالب ہو توسُبْحَانَ اللّٰهِیہ ہی حال عقل کا ہے۔
عقل زیر حکم دل یزدانی است جوز دل آزاد شد شیطانی است
اللّٰه تعالٰی دل کو نفس و عقل پر غالب رکھے۔
آمین !

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2773