Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2785

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ وَإِلٰى مِصْرَ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَتَيْتُ إِلٰى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ فَجَهَّزْتُ إِلَى العراقِ فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ، مَالَكَ وَلِمَتْجَرِكَ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَبَّبَ اللّٰهُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْهٍ فَلَا يَدَعْهُ حَتّٰى يَتَغَيَّرَ لَهٗ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه

وعن نافع قال: كنت أجهز إلى الشام وإلى مصر فجهزت إلى العراق فأتيت إلى أم المؤمنين عائشة فقلت لها: يا أم المؤمنين كنت أجهز إلى الشام فجهزت إلى العراق فقالت: لا تفعل، مالك ولمتجرك؟ فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا سبب الله لأحدكم رزقا من وجه فلا يدعه حتى يتغير له أو يتنكر له» . رواه أحمد وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں میں مصرو شام کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا ایک بار عراق کی طرف مال بھیجنے لگا تو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا اے مسلمانوں کی مہربان ماں میں شام کی طرف مال بھیجا کرتا تھا اس دفعہ عراق بھیج رہا ہوں ۱؎فرمایا یہ نہ کرو تمہیں اپنی پرانی منڈی سے نفرت کیوں ہوگئی ۲؎میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جب اللّٰه تم میں سے کسی کے لیے کسی ذریعہ سے رزق کا سبب بنادے تو وہ اسے نہ چھوڑے حتی کہ سبب بدل جائے یا بگڑ جائے ۳؎(احمد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی کاروبار میں بزرگوں سے مشورہ کرنا سنت صحابہ ہے،اس سے تجارت میں بزرگوں کا فیض بھی شامل ہوجاتا ہے۔یہ نافع حضرت عبداللّٰه ابن عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں،بڑے محدث ہیں،تابعی ہیں،حضرت ابن عمر کی وفات کے بعد بہت شاندار تجارت کرتے تھے۔
۲
؎یعنی جب تمہیں مصر و شام سے نفع بھی حاصل ہورہا ہے اور تمہاری تجارت بھی وہاں چمک رہی ہے تو تم وہاں سے متنفر کیوں ہوئے جاتے ہو۔
۳
؎شارحین فرماتے ہیںتغیرسے مراد بیوپار میں نفع نہ ہونا ہے اورتنکّریعنی بگڑنے سے مراد گھاٹا اور نقصان ہونا ہے،یا تو یہ دونوں کلمات نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ہیں یا ام المؤمنین کو روایت میں شک ہوگیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نےیَتَغَیَّرَفرمایا یایَتَنَكَرَ۔مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے ذریعہ آمدنی کو بلاوجہ بند نہ کرے کہ اس میں رب تعالٰی کی ناشکری ہے بلکہ اس کی نعمت کا ٹھکرانا ہے،لگی نوکری بندھا کاروبار بلا وجہ مت چھوڑو۔اعلٰی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں جو شخص بلاوجہ پچاس روپیہ ماہوار کی نوکری چھوڑ دے گا تو ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ پندرہ روپے کی نوکری تلاش کرے گا پر نہ ملے گی،ہاں اگر قدرتی طور پر بند ہوجائے تو پرواہ نہ کرے کہ اس صورت میں رب تعالٰی اس سے بہتر دروازہ کھول دے گا۔یہ حدیث بہت مجرب ہے جس کا خود فقیر نے بارہا تجربہ کیا،صوفیاء فرماتے ہیں۔ع یک در گیر محکم گیر

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2785