Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2768

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب والسنور. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو کتے بلی سے مراد غیر نافع کتے بلی ہیں جیسے دیوانہ کتا،وحشی بلی کہ اگر اسے باندھ کر رکھو تو چوہوں کا شکار نہ کرسکے اور اگر کھول دو تو بھاگ جائے اور یا مطلقًا کتا بلی مراد ہے اور نہی کراہت تنزیہی کے لیے ہے یعنی ان کا فروخت کرنا غیر مناسب ہے،یہ جانور تو یوں ہی بطور ہبہ دے دینا چاہئیں۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ کتے کی بیع جائز ہے کیونکہ بلی کی بیع تمام آئمہ کے ہاں درست ہے اور یہاں ممانعت میں کتے بلی دونوں کو ملا دیا گیا ہے۔معلوم ہوا کہ کتے کی بیع بھی بلی کی طرح جائز مگر غیر مناسب ہے،یہ حدیث صحیح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2768