Main Icon

باب: پائی ہوئی چیز کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3035

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ لُقْطَةِ الْحَاجِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عبد الرحمن بن عثمان التيمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لقطة الحاج. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عثمان تیمی سے ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حاجیوں کے لقطہ سے منع فرمایا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت طلحہ ابن عبیداللّٰهکے بھتیجے ہیں،صحابی ہیں اور عبداللّٰهابن زبیر کے ساتھ ایمان لائے مگر آپ نے براہ راست حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کوئی روایت نہ کی لہذا یہ حدیث مرسل صحابی ہے کہ کسی سننے والے صحابی کا نام رہ گیا ہے۔خیال رہے کہ مرسل صحابی تمام کے نزدیک حجت ہے،غیر صحابی کے مرسل میں اختلاف ہے،ہمارے احناف کے ہاں مقبول ہے امام شافعی کے ہاں غیر مقبول۔(مرقات)
۲
؎اس جملہ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں:ایک یہ کہ حاجی کی گمی چیز کے مالک کبھی نہ ہو بلکہ اس تک پہنچا ہی دو۔دوسرے یہ کہ زمانہ حج میں حجاج کی گری چیز نہ اٹھاؤ بلکہ جہاں چیز پڑی ہو وہاں ہی اعلان کرو کیونکہ بعد میں اعلان کرنا مفید نہیں کہ حجاج بہت جلد متفرق ہوجاتے ہیں۔تیسرے یہ کہ حرم شریف میں حجاج کے لقطے کے مالک کبھی نہ ہو اسے ہمیشہ امانت رہنے دو،جب کبھی حاجی آئے دے دو ورنہ پڑی رہے،یہ تیسرا قول امام شافعی کا ہے،ہمارے ہاں حرم وغیرہ کے لقطہ میں کوئی فرق نہیں اب امام شافعی کے ہاں بھی حرم کا لقطہ ضرور اٹھایا جائے اور مالک نہ ملنے پر خیرات کردیا جائے کہ اب حرم شریف میں بھی چوریاں ہونے لگیں اگر نہ اٹھایا گیا تو چوری ہو جائیگا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3035