Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5722

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

(وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ فِي الأُولَى وَالآخِرَةِ، الأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، وَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ..

(وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أنا أولى الناس بعيسى بن مريم في الأولى والآخرة، الأنبياء إخوة من علات وأمهاتهم شتى، ودينهم واحد، وليس بيننا نبي". متفق عليه..

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں عیسیٰ ابن مریم سے دنیا و آخرت میں قریب تر ہوں ۱∞؎حضرات انبیاء علاتی بھائی ہیں جن کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۲؎ہم دونوں کے درمیان کوئی نبی نہیں۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں قرب سے مراد زمانہ کا قرب ہے،حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں حضورصلی الله علیہ و سلم سے اس طرح قریب ہیں کہ ان دونوں حضرات کے درمیان کوئی نبی نہیں۔حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام ہی قریب قیامت اسلام کی خدمت کریں گے،آپ ہی حضور انور کے روضہ اقدس میں دفن ہوں گے،حضورصلی الله علیہ و سلم کی ولادت پاک ۵۷۰؁ پانچ سوستر عیسوی میں ہے،آخرت میں اس کے قریب ہوں گے کہ تمام عالم کو جو تلاش شفیع میں سرگرداں ہوں گے حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام ہی حضور انور کا پتہ دیں گے کہ آج تمہاری دستگیری کرنے والا سواء حضورصلی الله علیہ و سلم کے اور کوئی نہیں،حضرت روح الله پر ہماری جانیں فدا جو دنیاو آخرت میں حضور انور کے مبشر ہیں جیسے صبح کا ستارہ جو سورج نکلنے کی بشارت دے کر لوگوں کو جگاتا ہے۔۲؎اصول اور قواعد کو دین کہتے ہیں،فروعی مسائل کو مذہب۔ہم اور شوافع مذہبًا قدرے مختلف ہیں مگر تمام آئمہ کا دین اسلام ہے،اسی طرح توحیدورسالت میں تمام انبیاءکرام مشترک تھے مگر فروعی مسائل میں ان میں اختلاف تھا جیسے علاتی بھائی بہن کہ مائیں ان کی مختلف ہوتی ہیں باپ ایک ہی یہی حال حضرات صوفیاءکرام کے اختلاف کا ہے قادری، چشتی،نقشبندی،سہروردی وہ حضرات خود کہتے ہیںانباء السیل احیان لیس بینھم خلاف۔(مرقات)۳؎نہ حضورصلی الله علیہ و سلم سے پہلے نہ حضور کے زمانہ میں اس دوران میں کوئی نبی روئے زمین پر تشریف نہ لائے نہ صاحب شریعت نبی نہ غیر صاحب شریعت اس لیے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے اعلان فرمایا تھا"وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِی اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ"لہذا جو شخص عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کو نبی مانے یا حضور صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں اور کسی کو کسی طبقہ کا نبی مانے وہ کافر ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَہٰذَا النَّبِیُّ" کیونکر وہاں اقتداء میں قرب مراد ہے اور یہاں زمانہ میں قرب۔خیال رہے کہ اقتداء سے مراد موافقت ہے حضور انور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے موافق ہیں کہ آپ کے دین میں ملتِ ابراہیمی پوری مکمل موجود ہے کچھ معہ زوائد کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی نبی کے مقتدی نہیں سب کے مقتداء ہیں بہرحال آیت و حدیث دونوں اپنے مقام پر حق ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5722