Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5729

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَن زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ لِجِبْرِيلَ: "هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ فَانْتَفَضَ جِبْرِيلُ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعِينَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ، لَوْ دَنَوتُ مِنْ بَعْضِهَا لَاحْتَرَقْتُ". هَكَذَا فِي "الْمَصَابِيحِ".

وعن زرارة بن أوفى أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال لجبريل: "هل رأيت ربك؟ فانتفض جبريل وقال: يا محمد! إن بيني وبينه سبعين حجابا من نور، لو دنوت من بعضها لاحترقت". هكذا في "المصابيح".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زرارہ ابن اوفی سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جناب جبریل سے فرمایا کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو جبریل کانپ گئے ۱∞؎اور عرض کیا اے حضور محمد! میرے اور رب کے درمیان ستر ہزار حجاب ہیں اگر میں ان کے بعض سے قریب ہوجاؤں تو جل جاؤں۲؎اسی طرح مصابیح میں ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حضرت جبریل علیہ السلام کا کانپ جانا یا اس سوال کی ہیبت سے ہے یا اس تصور سے ہے جو انہیں اس سوال پر بندھا کہ دیدار الٰہی پر بندہ کا کیا حال ہوگا۔۲؎ستر سے مراد زیادتی بیان فرمانا ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ میرے اور رب کے درمیان ستر ہزار حجاب ہیں۔خیال رہے کہ نور بھی حجاب بن جاتا ہے جیسے سورج کا نور اس کے لیے حجاب ہے۔اس سوال فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ دیدار الٰہی ممکن ہے ورنہ حضور صلی الله علیہ و سلم یہ سوال کبھی نہ فرماتے،نیز اس سے معلوم ہوا کہ دیدار الٰہی صرف انسانوں کو ہوگا،جنتی مسلمان دیدار کریں گے، حضور انور نے معراج کی رات دیدار ذات اپنی آنکھوں سے کیا"ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰیحضورصلی الله علیہ و سلم ہی کی شان ہے فرشتوں کو دیدار کبھی نہیں۔احترقتفرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ نور میں گرمی ہوتی ہے مگر اور قسم کی،نور کی گرمی نار کی گرمی کو ختم کردیتی ہے،جب مؤمن پلصراط سے گزریں گے تو دوزخ پکارے گی جاگزر جا تیری نورانیت سے میری آگ بجھی جارہی ہے،حضرت خلیل پر نار نمرود ٹھنڈی ہوگئی یہ کرشمہ ہے نور کی گرمی کا۔بعض صوفیاء پر ان کے چلوں میں نورانیت غالب ہوتی ہے تو وہ ٹھنڈا پانی بہت پیتے ہیں،ٹھنڈے پانی سے نہاتے ہیں،ٹھنڈے پانی کے ٹپ میں بیٹھ جاویں تو وہ گرم ہوجاتا ہے۔خیال رہے کہ یہ حجابات حضرت جبریل کے لیے ہیں نہ کہ رب تعالٰی کے لیے رب تو حجاب میں ہونے سے پاک ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5729