- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5735
باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5735
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- جَالِسٌ وَأَصْحَابُهُ إِذْ أَتَى عَلَيْهِمْ سَحَابٌ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ ". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "هَذِهِ الْعَنَانُ هَذِهِ رَوَايَا الأَرْضِ يَسُوقُهَا اللَّهُ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْكُرُونَهُ وَلَا يَدعُونَهُ"، ثم قَالَ: "هَل تَدْرُونَ مَا فَوْقَكُمْ؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "فَإِنَّهَا الرَّقِيعُ سَقْفٌ مَحْفُوظٌ، وَمَوْجٌ مَكْفُوفٌ"، ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا خَمْسُ مِئَةِ عَامٍ"، ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟ ". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "سماءانِ بُعْدُ مَا بَيْنَهُمَا خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ"، ثُمَّ قَالَ كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، "مَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءَيْنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ"، ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "إِنَّ فَوْقَ ذَلِكَ الْعَرْشُ، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِيْنِ". ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا الَّذِي تَحْتَكُمْ؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "فَإِنَّهَا الأَرْضُ". ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا تَحْتَ ذَلِكَ؟ ". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "إِنَّ تَحْتَهَا أَرْضًا أُخْرَى بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ". حَتَّى عدَّ سَبع أَرَضِينَ، "بَيْنَ كلِّ أَرَضِينَ مَسِيْرَةُ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ"، ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكُمْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ إِلَى الأَرْضِ السُّفْلَى لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ"، ثُمَّ قَرَأَ: {هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [الحديد: 3]. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- الآيَةَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ: لَهَبَطَ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ، وَعِلْمُ اللَّهِ وَقُدْرَتُهُ وَسُلْطَانُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ، وَهُوَ عَلى الْعَرْشِ كَمَا وَصَفَ نَفْسَهُ فِي كِتَابِهِ.
وعنه قال: بينما نبي الله -صلى الله عليه وسلم- جالس وأصحابه إذ أتى عليهم سحاب، فقال نبي الله -صلى الله عليه وسلم-: "هل تدرون ما هذا؟ ". قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: "هذه العنان هذه روايا الأرض يسوقها الله إلى قوم لا يشكرونه ولا يدعونه"، ثم قال: "هل تدرون ما فوقكم؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: "فإنها الرقيع سقف محفوظ، وموج مكفوف"، ثم قال: "هل تدرون ما بينكم وبينها؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: "بينكم وبينها خمس مئة عام"، ثم قال: "هل تدرون ما فوق ذلك؟ ". قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: "سماءان بعد ما بينهما خمس مئة سنة"، ثم قال كذلك حتى عد سبع سماوات، "ما بين كل سماءين ما بين السماء والأرض"، ثم قال: "هل تدرون ما فوق ذلك؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: "إن فوق ذلك العرش، وبينه وبين السماء بعد ما بين السماءين". ثم قال: "هل تدرون ما الذي تحتكم؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: "فإنها الأرض". ثم قال: "هل تدرون ما تحت ذلك؟ ". قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: "إن تحتها أرضا أخرى بينهما مسيرة خمس مئة سنة". حتى عد سبع أرضين، "بين كل أرضين مسيرة خمس مئة سنة"، ثم قال: "والذي نفس محمد بيده لو أنكم دليتم بحبل إلى الأرض السفلى لهبط على الله"، ثم قرأ: {هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم} [الحديد: 3]. رواه أحمد والترمذي. وقال الترمذي: قراءة رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الآية تدل على أنه أراد: لهبط على علم الله وقدرته وسلطانه، وعلم الله وقدرته وسلطانه في كل مكان، وهو على العرش كما وصف نفسه في كتابه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں جب کہ نبی صلی الله علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ بیٹھے تھے کہ اچانک ان پر بادل آیا تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانتے ہیں ۱∞؎فرمایا یہ بادل ہے یہ زمین کے ساقی ہیں۲؎الله اسے اس قوم کی طرف لے جاتا ہے جو نہ اس کا شکر کریں نہ اس سے دعا مانگیں۳؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے،صحابہ نے عرض کیا الله رسول خوب جانتے ہیں،فرمایا آسمان ہے۴؎محفوظ چھت ہے اور روکی ہوئی موج ۵؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ عرض کیا الله رسول ہی جانیں،فرمایا تمہارے اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۶؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے،انہوں نے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا دو آسمان ان کے درمیان فاصلہ پانچ سو سال ہے،پھر فرمایا اسی طرح حتی کہ سات آسمان گنائے ۷؎ہر دو آسمانوں کے درمیان وہ فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ۸؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ ان سب کے اوپر کیا ہے،عرض کیا کہ الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا ان کے اوپر عرش ہے ۹؎اس کے اور آسمان کے درمیان وہ فاصلہ ہے جو دو آسمانوں کے درمیان ہے۱۰؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کیا ہے جو تمہارے نیچے ہے۱۱∞؎صحابہ نے عرض کی الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا وہ زمین ہے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے نیچے کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا کہ اس کے نیچے دوسری زمین ہے جن دونوں کے درمیان پانچ سو سال ہیں۱۲؎حتی کہ سات زمینیں شمار فرمائیں۱۳؎ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے،پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم ایک رسی نیچی زمین کی طرف لٹکاؤ تو الله پر ہی گرے گی۱۴؎پھر قرأت فرمائی وہ اول ہے اور آخر ظاہر ہے اور باطن اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۱۵؎(احمد، ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا یہ آیت پڑھنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کے علم پر اس کی قدرت پر اس کی حکومت پر گرے الله تعالٰی کا علم اس کی قدرت اس کی بادشاہت ہر جگہ ہے۱۶؎اور وہ عرش پر ہے جیسے اس نے خود اپنی کتاب میں اپنی تعریف فرمائی۱۷؎
شرح حدیث
۱∞؎یہ صحابہ کرام کا انتہائی ادب ہے کہ حضور انور کے سوال پر جانی پہچانی چیز کا نام بھی نہیں بتاتے کہ نہ معلوم اس سوال میں کیا راز اور اتنی ظاہر چیز کے پوچھنے میں کیا حکمت ہے ہمارے عرض کردینے سے وہ فوت نہ ہوجائے۔۲؎روایاجمع ہےراویہکی،راویہوہ اونٹنی بھی کہلاتی ہے جو زمین کو سیراب کرے اور وہ بڑی مشک بھی جس میں پانی بھرکر اونٹنی پر لاد کر لایا جاوے اور خشک زمین میں بکھیرا جاوے یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں۔بادل سمندر سے پانی لاتے ہیں اور ہم پر برساتے ہیں۔۳؎یعنی بارش الله تعالٰی کی نعمت عامہ ہے جو ہر شاکر و کافر کو ملتی ہے جیسے ہوا اور دھوپ۔۴؎یا تو آسمان دنیا کا نام رقیع ہے یا ہر آسمان کو رقیع کہتے ہیں،جمع ہے ارقعہ۔۵؎اس سے معلوم ہوتا ہے آسمان کا قوام پتلا ہے پانی کیطرح پھربھی گرنے بگڑنے بہہ جانے سے محفوظ ہے بغیر ظاہری سہارے کے قائم ہے صرف الله تعالٰی کی قدرت سے،پھر اس کے دروازے بھی ہیں وہ بھی اس کی طرح رقیق و پتلے ہیں جیسے خیمے کا دروازہ کپڑے کا ہوتا ہے۔۶؎یعنی چڑھتے ہوئے اتنا فاصلہ ہے جو کوئی چل کر چڑھ کر وہاں جائے تو پانچ سو سال میں پہنچے،گرنے کے متعلق وہ حدیث ہے کہ صبح کا پھینکا ہوا پتھر شام سے پہلے زمین پر آجاوے۔آج جو راکٹ وغیرہ اگر آسمان پر دو تین دن میں پہنچ جاتے ہوں تو یہ رفتار اور ہی ہے جیسے مدینہ منورہ کراچی سے پیدل سال بھر کا راستہ ہے مگر ہوائی جہاز سے صرف چار گھنٹے کا لہذا حدیث واضح ہے۔۷؎اسی طرح بیان فرمانا کہ ان دو آسمانوں کو علیحدہ بیان کیا باقی چار آسمانوں کو علیحدہ،اعلٰی درجہ کی فصاحت ہے اس طرح بات یاد بھی خوب رہتی ہے۔آسمانوں کا دل ان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے اور دو آسمانوں کے درمیان فاصلہ بھی اتنا ہی ہے جتنا بیچ خلا ہے۔فلاسفہ کہتے ہیں کہ تمام آسمان چمٹے ہوئے ہیں جیسے پیاز کے چھلکے،یہ غلط ہے کیونکہ جو آسمان دیکھ کر آئے وہ ہر دو کے درمیان فاصلہ بتا رہے ہیں اور فلاسفر صرف اپنے اندازے سے،دیکھنے والے کا قول زیادہ قابل قبول ہے۔۸؎یہ خبر نہیں کہ وہاں اس خلا میں کیا چیز ہے،زمین و آسمان کے درمیان جو خلا ہے اس میں تو ہوا،آگ پھر نہایت ٹھنڈا طبقہ یعنی زمہریر ہے۔۹؎فلاسفر کہتے ہیں کہ عرش و کرسی بھی دو آسمان ہیں اور آسمانوں کی تعداد نو ہے مگر غلط ہے آسمان سات ہیں عرش و کرسی ان کے علاوہ ہیں،ان دونوں کی حقیقت آسمانوں کی حقیقت سے وراء ہے۔۱۰؎یعنی جتنا فاصلہ پانچ سو سال کا آسمان وزمین کے درمیان ہے اتنا ہی فاصلہ ساتویں آسمان اور عرش عظیم کے درمیان ہے وہ فاصلہ دو آسمانوں کے درمیان ہے۔۱۱∞؎یہاں نیچے سے مراد قدم کے نیچے ہے جس سے ہمارے قدم لگے ہوئے ہیں اگرچہ حضرات صحابہ جانتے تھے کہ یہ زمین ہے مگر پھر عرض یہ ہی کیا کہ الله رسول جانیں،یہ ہے اس بارگاہ کا ادب۔۱۲؎فلاسفہ کہتے ہیں کہ زمین صرف ایک ہے یا اگر سات ہیں تو ایک دوسری سے چمٹی ہوئی ہیں جیسے پیاز کے چھلکے کہ دیکھنے میں ایک ہی معلوم ہوتی ہیں مگر دو یا تین غلط ہیں،زمینیں سات ہیں اور ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے جیساکہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا،رب تعالٰی فرماتاہے:"خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ"۔۱۳؎خیال رہے کہ تمام زمینوں کی حقیقت ایک ہی ہے یعنی مٹی مگر ساتوں آسمانوں کی حقیقتیں مختلف ہیں اس لیے قرآن مجید میںسمٰوٰتجمع ارشاد ہوتا ہے اور زمین کوالارضواحد کہا جاتا ہے لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں۔۱۴؎یعنی الله تعالٰی کے ملک اس کے علم اس کی قدرت پر گرے گی،جہاں پہنچے گی وہاں الله تعالٰی ہی کا ملک و علم ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے: "مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانۡفُذُوۡا لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ"۔مقصد یہ ہے کہ رب تعالٰی کا ملک صرف آسمانوں میں محدود نہیں ہے ہر جگہ ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کو معراج آسمانی کرائی گئی وہاں بھی رب تعالٰی ہی کا کرم و نوازش تھی۔حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں پہنچاکر معراج کرائی گئی وہاں بھی رب تعالٰی ہی کا کرم و نوازش تھی۔(مرقات)اسی لیے حضور انور نے اگلی آیت تلاوت فرمائی۔۱۵؎ان چاروں نام شریف کی تفسیر اسماءحسنیٰ کی شرح میں گزر چکی۔اول بمعنی قدیم ہے کہ جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا،یہ حادث کا مقابل ہے،آخر کے معنی ہیں باقی غیر فانی،جب کچھ نہ رہے تو وہ رہے گا اس کے صفات ایسے ظاہر کہ بچہ بچہ جانے،اس کی ذات ایسی خفی کہ کوئی اسے نہ پاسکے،حضور صلی الله علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیںماعرفناك حق معرفتكپھر اور کا تو ذکر ہی کیا۔مولانا فرماتے ہیں شعریا خفی الذات محسوس العطاء انت کالماء ونحن کالرحی
انت کالریح ونحن کالغبار یختفی الریح وغیرہ جھارایک صوفی فرماتے ہیں؎بے حجابی یہ ہے کہ ہر ذرہ میں جلوہ آشکار اس پہ یہ گھونگھٹ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے
یار تیرے حسن کو تشبیہ دوں کس چیز سے ایک تو دیدہ ہے اور تیرے سواء نادیدہ ہے
یا اول وہ جو سب کو پیدا فرمائے،آخر وہ جو سب کو فنا کرے،ظاہر وہ جو سب پر غالب ہو جو چاہے کرے،باطن وہ جو ہر آفت زدہ مصیبت کے مارے کی پناہ ہو اس کے ساتھ ہی وہ ہر چیز کا عالم بھی ہے۔(از مرقات)۱۶؎یہ وہ ہی شرح ہے جو ابھی ہم نے عرض کی۔الله تعالٰی کسی جگہ میں نہیں وہ جگہ سے پاک ہے جب جگہ نہیں بنی تھی وہ جب بھی تھا کہاں تھا۔معلوم ہوا کہ وہ کہاں جہاں،یہاں وہاں سے پاک ہے،ہاں اس کی سلطنت حکومت،علم قدرت ہر جگہ ہے کوئی جگہ اس کی سلطنت سے خالی نہیں۔۱۷؎اس میں اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے"ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ"یعنی اس کا خاص تجلی گاہ عرش ہے اس کا پایہ تخت جہاں سے اس کے احکام جاری ہوتے ہیں وہ عرش ہے ورنہ عرش بھی اس کی جگہ نہیں،مگر خیال رکھنا کہ وہ جگہ سے تو پاک ہے مگر ملتا ہے دو جگہ یا حضور صلی الله علیہ و سلم کے پاس"لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا"یا مؤمن کے دل میں مولانا فرماتے ہیں۔گفت پیغمبر کہ حق فرمودہ است من نہ گنجم ھیچ دربالاؤ پست
در دل مؤمن بہ گلنجم اے عجب گر مرا جوئی دریں دلہا طلب
ہونے اور ملنے میں بڑا فرق ہے،بلا تشبیہ بجلی کا پاور سارے تار میں ہے مگر ملتا ہے وہاں جہاں بلب ہو یہ بات بہت ہی لحاظ رکھی جاوے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5735