Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5704

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ: ثِنْتَيْنِ مِنْهُنَّ فِي ذَاتِ اللَّهِ قَوْلُهُ: {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: 89] ، وقولُهُ: {قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: 63] وَقَالَ: "بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ، إِذْ أَتَى عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: إِن هَاهُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيهِ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: أُخْتِي، فَأَتَى سَارَةَ فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي يَغْلِبُنِي عَلَيْكِ، فَإِنْ سَأَلَكِ فَأَخْبِرِيْهِ أَنَّكِ أُخْتِي، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الإِسْلَامِ، لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأُتِيَ بِهَا،قَامَ إِبْرَاهِيمُ يُصَلِّي، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ، ذَهَبَ يَتَنَاوَلُهَا بِيَدِهِ. فَأُخِذَ -وَيُرْوَى فَغُطَّ- حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُطْلِقَ، ثُمَّ تَنَاوَلَهَا الثَّانِيَةَ، فَأُخِذَ مِثْلَهَا أَوْ أَشَدَّ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُطْلِقَ، فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِهِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ فَأَتَتْهُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّيْ، فَأَوْمأَ بِيَدِهِ؛ مَهْيَمْ؟ قَالَتْ: رَدَّ اللَّهُ كيْدَ الْكَافِرِ فِي نَحْرِهِ، وَأَخْدَمَ هَاجَرَ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ! . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لم يكذب إبراهيم إلا ثلاث كذبات: ثنتين منهن في ذات الله قوله: {إني سقيم} [الصافات: 89] ، وقوله: {قال بل فعله كبيرهم هذا} [الأنبياء: 63] وقال: "بينا هو ذات يوم وسارة، إذ أتى على جبار من الجبابرة، فقيل له: إن هاهنا رجلا معه امرأة من أحسن الناس، فأرسل إليه، فسأله عنها: من هذه؟ قال: أختي، فأتى سارة فقال لها: إن هذا الجبار إن يعلم أنك امرأتي يغلبني عليك، فإن سألك فأخبريه أنك أختي، فإنك أختي في الإسلام، ليس على وجه الأرض مؤمن غيري وغيرك، فأرسل إليها، فأتي بها،قام إبراهيم يصلي، فلما دخلت عليه، ذهب يتناولها بيده. فأخذ -ويروى فغط- حتى ركض برجله فقال: ادعي الله لي ولا أضرك، فدعت الله فأطلق، ثم تناولها الثانية، فأخذ مثلها أو أشد، فقال: ادعي الله لي ولا أضرك، فدعت الله فأطلق، فدعا بعض حجبته فقال: إنك لم تأتني بإنسان، إنما أتيتني بشيطان، فأخدمها هاجر فأتته وهو قائم يصلي، فأومأ بيده؛ مهيم؟ قالت: رد الله كيد الكافر في نحره، وأخدم هاجر". قال أبو هريرة: تلك أمكم يا بني ماء السماء! . متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہ کہا سواء تین جھوٹ کے ۱∞؎ان میں سے دو الله کی ذات میں تھے کہ میں بیمار ہو ں۲؎اور آپ کا فرمان کہ بلکہ یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا۳؎فرمایا کہ ایک دن آپ اور جناب سارہ ہجرت میں تھے کہ آپ ظالمین میں سے ایک ظالم پر گزرے۴؎اسے خبر دی گئی کہ یہاں ایک شخص ہے جس کے ساتھ ایک عورت ہے لوگوں میں سے حسین ترین اس نے آپ کو بلوایا اور سارہ کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں آپ نے فرمایا میری بہن ہیں۵؎پھر آپ سارہ کے پاس آئے ان سے فرمایا کہ یہ ظالم اگر جان لے گا کہ تم میری بیوی ہو تو یہ تمہارے متعلق مجھ پر غلبہ کرلے گا۶؎اگر وہ تم سے پوچھے تو اسے بتانا کہ تم میری بہن ہو کیونکہ تم میری اسلامی بہن ہو،روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مؤمن نہیں ہے۷؎پھر اس نے سارہ کو بلوایا آپ کو وہاں پہنچایا گیا جناب ابراہیم کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے جب آپ اس کے پاس گئیں وہ اپنے ہاتھ سے آپ کو پکڑنے لگا۸؎وہ خود پکڑا گیا،روایت میں ہے کہ وہ خراٹے لینے لگا حتی کہ اس کے پاؤں رگڑگئے،بولا الله سے دعا کردیں تم کو نقصان نہ دوں گا،سارہ نے الله سے دعا کی وہ چھوڑ دیا گیا،پھر دوبارہ پکڑنا چاہا اسی طرح پکڑا گیا اور زیادہ سخت ۹؎بولا میرے لیے الله سے دعا کریں تم کو تکلیف نہ دوں گا۱۰؎تو الله سے دعا کی وہ کھول دیا گیا ۱۱∞؎پھر اس نےجناب سارہ کو دوبارہ پکڑنا چاہا تو اس طرح اور بہت سخت پکڑا گیا بولا الله سے میرے لیے دعا کردیں تم کو تکلیف نہ دوں گا سارہ نے الله سے دعا کی وہ کھول دیا گیا ۱۲؎پھر اس نے اپنے بعض دیوڑھی باتوں کو بلایا تم میرے پاس انسان نہیں لائے جناتنی لائے ہو۱۳؎چنانچہ انہیں بی بی ہاجرہ خادمہ دیں۱۴؎آپ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں آپ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کیا گزری،بولیں الله نے کافر کا مکر اس کے گلے میں لوٹا دیا اور ہاجرہ خادمہ عطا فرمائی۱۵؎ابوہریرہ نے فرمایا کہ آسمان کے پانی کے بچو یہ تمہاری ماں ہیں۱۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں جھوٹ سے مراد توریہ ہے یعنی ذو معنی والا لفظ بول کر بعید معنی مراد لینا ہے،ضرورت کے وقت توریہ بالکل جائز ہے۔خیال رہے کہ آپ کا چوتھا قولھذا ربیبچپن شریف کاتھا،یہ تین توریہ نبوت کی عطا کے بعد ہیں لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔۲؎اس فرمان عالی کی تفسیر حاشیۃ القرآن میں ملاحظہ کرو،یہاں اتنا سمجھ لو کہ آپ کی قوم نے آپ کو اپنے میلے میں چلنے کے لیے کہا تو آپ نے کہا میں بیمار ہوں تمہارے ساتھ کیسے جاسکتا ہوں،مطلب یہ تھا کہ میرا دل بیمار ہے،اسے تمہاری طرف سے رنج و غصہ ہے مگر چونکہ آپ کا جسم شریف بظاہر بیمار نہ تھا اورسقیمکے ظاہری معنی ہیں جسمانی بیماری اس لیے اسے کذب یعنی توریہ فرمایا گیا آپ توصدیقًا نبیًاہیں،اس فرمان عالی کے اور بہت مطلب ہوسکتے ہیں یہ قوی ہے۔شعر
اگر ترابہ تماشا وعید خود طلبند خلیل در جوابے بگو کہ بیمارم
۳
؎اس کا واقعہ یہ ہوا تھا کہ کفار تو اپنے میلے میں گئے آپ نے بتخانہ میں تشریف لے جاکر سارے بت توڑ دیئے،ان میں ایک بت بڑا تھا باقی چھوٹے تھے،کفار نے واپس آکر اپنے بتوں کی یہ حالت دیکھ کر آپ سے پوچھا کہ یہ کام کس نے کیا،آپ نے فرمایا ان سب سے بڑے نے کیا۔یہ کلام شریف ظاہر کے خلاف ہے کہ بتوں کو توڑا آپ نے اس توڑنے کو نسبت کردیا بڑے بت کی طرف اس لیے اسے کذب یعنی توریہ فرمایا۔اس فرمان عالی کے بہت مطلب بیان کیے گئے ہیں،قوی ترین دو مطلب ہیں:ایک یہ کہ کفار ان بتوں کو اپنا چھوٹا خدا کہتے تھے الله تعالٰی کو بڑا خدا،آپ نے فرمایا کہ یہ کام الله تعالٰی نے کیا ہے کیونکہ محبوب خلیل کا کام رب کا کام ہے"وَمَا رَمَیۡتَ اِذْ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰی"وہ سمجھے کہ بڑے سے مراد یہ بڑا بت ہے۔دوسرے یہ کہ یہ جملہ خبر نہیں بلکہ انشاء ہے یعنی اس بڑے نے کیا ہوگا ان چھوٹوں سے پوچھ لو،یہ ہوا استہزاء اور استہزاء خبر نہیں پھر جھوٹ کیسا،رب جہنمی کافر سے فرمائے گا"ذُقْ اِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْکَرِیۡمُ"حالانکہ کافر نہ کریم ہے نہ عزیز،چونکہ ان دونوں کلاموں کا تعلق خاص رب تعالٰی سے ہے جس میں آپ کا اپنا نفع کوئی نہیں اس لیے فرمایا کہ یہ دونوں کلام الله تعالٰی کے متعلق تھے۔۴؎اس کا واقعہ یہ ہوا کہ حضرت خلیل اپنی بیوی حضرت سارہ کے ساتھ عراق سے شام کی طرف براستہ مصر ہجرت کرکے جارہے تھے کہ مصر سے گزرے،وہاں کا قبطی بادشاہ صادق ابن صادون بڑا ظالم تھا،جس مسافر کی بیوی خوبصورت دیکھتا اسے طلاق دلوا کر خود قبضہ کرلیتا تھا وہاں یہ واقعہ پیش آیا۔۵؎اس ظالم نے پہلے تو آپ کو بلایا تاکہ آپ سے طلاق حاصل کرکے حضرت سارہ پر قبضہ کرے،آپ نے فرمایا کہ یہ بی بی صاحبہ میری بہن ہیں،وہ بے دین بھائی سے بہن کو نہیں چھینتا تھا بلکہ خاوند سے بیوی کو طلاق دلواتا تھا اگر طلاق نہ دیتا تو اسے قتل کردیتا تھا،آپ بہ تعلیم الٰہی اس کا یہ اصول جانتے تھے۔۶؎اس طرح کہ مجھ سے تمہیں بذریعہ طلاق لے لے گا یا مجھے قتل کرا دے گا۔مردوں میں حضرت یوسف علیہ السلام بڑے حسین تھے اور عورتوں میں حضرت سارہ بڑی حسینہ تھیں بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن حضرت سارہ کی میراث تھا۔حضرت سارہ ہاران کی بیٹی تھیں،ہاران اور آذر دونوں آپ کے چچا تھے،والد تارخ تھے جو مؤمن تھے۔۷؎یعنی اس زمین مصر میں میرے تمہارے سواء کوئی مؤمن نہیں اس وقت حضرت لوط آپ کے ساتھ نہ تھے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔(اشعہ)اس سے معلوم ہوا کہ ضرورۃً اپنی بیوی کو بہن کہنا جائز ہے اس سے ظہار نہیں ہو جاتا جیسے حضرت ابوبکر صدیق نے حضور انور سے عرض کیا تھا کہ حضور میں تو حضور کا بھائی ہوں کیا میری بیٹی عائشہ سے آپ کا نکاح درست ہوگا،ویسے کوئی اپنے کو حضور کا بھائی نہیں کہہ سکتا"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ"یہ بھی کہنا مسئلہ پوچھنے کی ضرورت سے تھا بلاضرورت زوجین ایک دوسرے کو بھائی بہن ہرگز نہ کہیں۔۸؎آج اس مردود نے اپنے اصول و قواعد کے بھی خلاف کیا کہ باوجودیکہ آپ نے انہیں اپنی بہن کہا اس نے پھر بھی پکڑوا کر بلالیا اور آپ کی طرف دست درازی کرنے لگا۔۹؎اس کی یہ پکڑ اور چھوٹ حضرت سارہ کی کرامت بھی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا معجزہ بھی۔وہ اپنی حرکت پر پکڑا جاتا تھا جناب سارہ کی دعا پر چھوٹ جاتا تھا،آپ چھوٹنے کی دعا اس لیے کردیتی تھیں کہ اگر وہ مرگیا یا ایسا ہی رہا تو اس کی قوم مجھے تکلیف دے گی۔۱۰؎اس کی اس بات سے معلوم ہوا کہ وہ بادشاہ کافر تھا مگر وہابی نہ تھا وسیلہ اولیاء کا قائل تھا،اس نے خود رب سے دعا نہ کی بلکہ حضرت سارہ سے دعائیں کراتا رہا،وہ جانتا تھا کہ الله تعالٰی ان کی سنے گا میری نہ سنے گا ہر وقت اس کا ہاتھ سوکھ جاتا تھا اور اسے مرگی کا سا مرض لاحق ہوجاتا تھا جس سے وہ زمین پر اپنی ایڑیاں رگڑنے لگتا تھا۔۱۱∞؎الله تعالٰی نے اس ظالم کو پکڑا تو اس کے جرم سے مگر چھوڑا حضرت سارہ کی دعا سے جس سے پتہ لگا کہ مجرم اکثر پکڑے جاتے ہیں اپنی حرکتوں سے مگر خلاصی پاتے ہیں بزرگوں کے فیض سے۔آپ کی یہ دعا فورًا ہی قبول ہوئی کہ دعا کی اور وہ چھوڑا گیا۔۱۲؎مردود بڑا ڈھیٹ تھا کہ بار بار پکڑا جاتا تھا مگر جب چھوٹتا تھا برا ارادہ کرتا تھا کیونکہ وہ عادی مجرم تھا۔۱۳؎وہ لوگ جنات سے بہت ہی ڈرتے تھے،ہر خطرناک انسان کو جن کہہ دیتے تھے اسی وجہ سے اس نے آپ کو جن کہا یعنی خطرناک انسان جس پر میں قابو نہ پاسکا جیسے فرعون موسیٰ علیہ السلام کو ساحر کہہ کر آپ سے دعا کراتا تھا"یٰۤاَیُّہَ السَّاحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ"ساحربمعنی بڑے کرشمے والا انسان۔شیطان سے مراد طاقتور جن ہے نہ کہ ابلیس کہ وہ ابلیس سے خبردار تھا ہی نہیں۔۱۴؎اس واقعہ سے کچھ عرصہ پہلے حضرت ہاجرہ کے ساتھ بھی یہ ہی واقعہ اس کا ہوچکا تھا کہ آپ کو ظلمًا پکڑ لیا تھا مگر آپ پر قابو نہ پاسکا مگر انہیں اپنے گھر میں رکھا آپ اس کے ہاں مظلومہ قیدی تھیں وہ بولا کہ چونکہ سارہ بھی اس طرح کی ہیں لہذا ہاجرہ سارہ کو دیدو انہیں بھی میرے گھر سے نکالو آپ لونڈی نہ تھیں کیونکہ لونڈی غلام وہ ہوتا ہے جو کفرو اسلام کی جنگ میں کافر مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور مسلمان اسے غلام بنالیں۔اس زمانہ میں نہ کفرو اسلام کی جنگ ہوئی تھی نہ آپ کسی مسلمان کے ہاں گرفتار ہو کر لونڈی بنائی گئی تھیں،آپ شہزادی تھیں اس کے ہاں مظلومہ قیدی تھیں، آپ کی عصمت الله تعالٰی نے محفوظ رکھی تھی سارہ کی طرح کیونکہ سارہ حضرت اسحاق کی ماں بننے والی تھیں اور ہاجرہ حضرت اسماعیل کی والدہ حضور محمد رسول الله کی دادی بننے والی تھیں،الله ان کی عصمت کا والی تھا،جب نبی کی بیوی بننے والی عورت کو خواب میں احتلام نہیں ہوسکتا تو نبی کی ماں بننے والی بی بی پر کون قابو پاسکتا ہے۔۱۵؎اخدمکے معنی ہیں خادمہ بناکر دیا نہ کہ لونڈی بنا کر کیونکہ آپ مؤمنہ آزاد تھیں آزاد مؤمن کو کوئی بھی غلام نہیں بنا سکتا،اگر کافر قید کرکے غلام بنا بھی لے تو وہ چھوٹتے ہی آزاد ہوگا۔مرقات نے فرمایا کہ آپ کا نام ہاجرہ اس لیے ہوا کہ آپ بھی شام سے ہجرت کرکے آئی تھیں۔ہاجرہ بمعنی مہاجرہ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر شریف ایک سو سال کی تھی،آپ سے حضرت اسماعیل علیہ ا لسلام پیدا ہوئے،انہیں سے عرب آباد ہوئے،انہیں کی اولاد سے آفتاب ہاشمی حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم چمکے سورج والے آسمان پر کوئی تارہ نہیں،حضرت اسماعیل کی نسل میں سواء حضور کے کوئی نبی نہیں،سارے تارے حضرت سارہ کی اولاد میں چمکے کیسی مبارک نسل ہے۔۱۶؎حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ نے یا تو مکہ والوں کو یا اولاد اسماعیل علیہ السلام کو یا سارے عرب کوبنی ماء السماءفرمایا کہ اس لیے کہ یہ لوگ بارش کے پانی کی طرح طیب و طاہر تھے کہ حضور کے ہم وطن تھے یا اس لیے کہ ان کا گزارہ زمزم پانی پر تھا زمزم آسمان سے ہی آیا یا اس لیے کہ انصار عامر ابن حارثہ ازدی کی اولاد سے تھے اور عامر کو لوگ ماء السماء کہتے تھے یعنی اسماعیلیو یا اے اہل عرب تمہاری دادی صاحبہ جناب ہاجرہ ہیں رضی الله عنہا۔(اشعہ مرقات، لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5704