- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5708
باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5708
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ. فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ. فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ. فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ، فَدَعَا النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- الْمُسْلِمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي كَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي،أَوْ كَانَ فِيمَنِ اسْثَثْنَى اللَّهُ". وَفِي رِوَايَةٍ: "فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَةِ يَوْمِ الطُّورِ أَوْ بُعِثَ قَبْلِي؟ وَلَا أَقُولُ: إنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بنِ مَتَّى".
وعنه قال: استب رجل من المسلمين ورجل من اليهود. فقال المسلم: والذي اصطفى محمدا على العالمين. فقال اليهودي: والذي اصطفى موسى على العالمين. فرفع المسلم يده عند ذلك فلطم وجه اليهودي، فذهب اليهودي إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فأخبره بما كان من أمره وأمر المسلم، فدعا النبي -صلى الله عليه وسلم- المسلم فسأله عن ذلك فأخبره، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "لا تخيروني على موسى، فإن الناس يصعقون يوم القيامة، فأصعق معهم فأكون أول من يفيق، فإذا موسى باطش بجانب العرش، فلا أدري كان فيمن صعق فأفاق قبلي،أو كان فيمن اسثثنى الله". وفي رواية: "فلا أدري أحوسب بصعقة يوم الطور أو بعث قبلي؟ ولا أقول: إن أحدا أفضل من يونس بن متى".
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی آپس میں جھگڑ پڑے مسلمان بولا اس کی قسم جس نے محمد صلی الله علیہ و سلم کو تمام جہان پر چن لیا تو یہودی بولا اس کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے جہانوں پر چن لیا ۱∞؎اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے منہ پر طمانچہ مار دیا یہودی نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا اور مسلمان کا جو واقعہ ہوا تھا حضورصلی الله علیہ و سلم کو اس کی خبر دی۲؎نبی صلی الله علیہ و سلم نے مسلمان کو بلایا اور اس کے متعلق اس سے پوچھا اور اس نے حضور کو یہ خبر دی۳؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو۴؎کیونکہ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہوں گے میں بھی ان کے ساتھ بے ہوش ہوں گا۵؎تو سب سے پہلے ہوش میں آنے والا میں ہوں گا،اچانک موسیٰ علیہ السلام عرش کا کنارہ پکڑے ہوں گے۶؎میں نہیں جانتا کہ کیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں تھے مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا ان میں سے ہیں جنہیں الله نے مستثنٰی فرمایا۷؎اور ایک روایت میں ہے میں نہیں جانتاکہ کیا طور کی بے ہوشی حساب میں لگائی گئی۸؎یا وہ مجھ سے پہلے اٹھائے گئے اور میں نہیں کہتا کہ کوئی بھی یونس ابن متی علیہ السلام سے افضل ہے ۹؎
شرح حدیث
۱∞؎موسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے مگر چونکہ یہودی نے یہ قید نہ لگائی بلکہ مطلقًاعالمینکہا اس لیے مسلمان نے اسے مارا۔۲؎اس نے کہا مجھ پر فلاں مسلمان نے ظلم کیا کہ بلاقصور مارا غالبًا قصاص مانگتا ہوگا حالانکہ قصور یہودی کا تھا کہ اس نے حضور صلی الله علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کی تھی اس لیے حضور انور نے اس کا قصاص نہ دلوایا یہ ضرور خیال رہے۔آج بعض مسلمان حضورصلی الله علیہ و سلم کے گستاخ ہندوؤں کو قتل کر ڈالتے ہیں،مسلمان اپنے محبوب کی بے ادبی برداشت نہیں کرتا۔۳؎معلوم ہوا کہ مدعیٰ علیہ کا بیان لے کر فیصلہ کیا جاوے مگر یہ حکم عام فیصلوں کے لیے ہے فتویٰ صرف بیان پر ہوتا ہے،بعض صورتوں میں یہ فیصلہ یک طرفہ بیان پر دیا جاتا ہے جیسے قضا علی الغائب حضور انور نے صرف بی بی ہندہ کا بیان سن کر ابوسفیان کے متعلق فتویٰ دے دیا کہ بقدر ضرورت ان کا مال ان سے بغیر پوچھے خرچ کرلیا کرو،حضرت داؤد علیہ السلام نے دو حاضرین میں سے ایک کا بیان لے کر فرمایا کہ ننانوے دنبیوں والا تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری ایک ایک دنبی بھی لینا چاہتا ہے۔خیال رہے کہ حضور انور نے مسلمان سے اس یہود کو نہ قصاص دلوایا نہ معافی مانگوائی کیونکہ قصور یہودی کا تھا کہ اس نے حضور انور کی توہین کی وہ بھی مسلمان کے سامنے یہ بات خیال رہے۔۴؎یعنی مجھے دوسرے نبیوں پر ایسی بزرگی نہ دو جس سے دوسرے نبی کی توہین ہوجاوے یا جس سے لڑائی جھگڑے کی نوبت آئے یا نفس نبوت میں ترجیح نہ دو کہ کسی کو اصلی نبی مانو کسی کو ظلی،بروزی عارضی نبی لہذا یہ حدیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہے کہ"تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ"اور نہ اس حدیث کے خلاف کہانا سیدولد آدم۔اپنی طرف سے گھڑ کر مسائل بیان نہ کرو،جو افضلیت قرآن یا حدیث سے ثابت ہو وہ بیان کرو لہذا حدیث واضح ہے،حضور صلی الله علیہ و سلم سید الاولین والا آخرین ہیں۔۵؎قوی تر یہ ہے کہ یہ نفخ صور وہ نہیں ہے جس سے لوگ زندہ کیے جائیں گے اس وقت تو سب سے پہلے حضور انور ہی زندہ ہوں گے، فرماتے ہیںانا اول من تنشق عنہ الارضبلکہ یہ صور کا پہلا نفخہ ہے جس سے زندہ لوگ مرجائیں گے اور وفات یافتہ لوگ بے ہوش ہوجائیں گے بعد میں ہوش میں آئیں گے،یا سب کے زندہ ہوچکنے کے بعد صور تیسری بار پھونکا جاوے گا جس سے سب لوگ بے ہوش ہوجائیں گے یہاں وہ واقعہ بیان ہورہا ہے۔(اشعۃ اللمعات)رب فرماتا ہے:"وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللہُ"۔۶؎یعنی موسیٰ علیہ السلام مجھ سے پہلے کھڑے ہوئے عرش کا کنارہ پکڑے ہوں گے۔خیال رہے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام کی حضور انورصلی الله علیہ و سلم پر جزوی فضیلت ہے جو کلی فضیلت کے خلاف نہیں جیسے حضرت آدم کا مسجود ملائکہ اور ابوالبشر ہونا یا عیسیٰ علیہ ا لسلام کا بغیر والد پیدا ہونا کلیۃً حضور انور ہی تمام انبیاءعلیہم السلام افضل ہیں۔۷؎یعنی اس نفخہ میں سب لوگ بے ہوش نہ ہوں گے بعض مستثنٰی بھی رہیں گے،جسے رب نے فرمایا" اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللہُ"والله اعلم!وہ ان مستثنٰی لوگوں میں سے ہیں یا مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے۔۸؎یعنی موسیٰ علیہ السلام طور پر تجلی الٰہی دیکھ کر بے ہوش ہوچکے ہیں"فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا"۔غالبًا وہ بے ہوشی حساب میں لگائی گئی،آج بے ہوشی سے محفوظ رہے۔خیال رہے کہلاادریمیں علم عطا الٰہی کی نفی نہیں بلکہ علم بالدلائل کی نفی ہے۔درایت عقلی علم کو کہتے ہیں،اور یہاں اس کا مقصد ہے،عدم اعلام(نہ بتانا)جیسے"مَاۤ اَدْرِیۡ مَا یُفْعَلُ بِیۡ وَلَا بِکُمْ"میں نہیں جانتا کہ قیامت میں تمہارے ساتھ کیا ہوگا اور میرے ساتھ کیا ہوگا وہاں بھی درایت کی نفی ہے علم کی نفی نہیں۔۹؎متی یونس علیہ السلام کی والدہ کا نام شریف ہے،بعض نے فرمایا کہ آپ کے والد کا نام ہے۔حضرت یونس علیہ السلام نبی ہیں مگر اولو العزم نبی،رب فرماتاہے:"وَ لَا تَکُنۡ کَصَاحِبِ الْحُوۡتِ"اس لیے خصوصیت سے حضور انور نے ان کا نام شریف لیا۔یہاں بزرگی نہ دینے کے وہ ہی معانی ہیں جو ابھی عرض کیے گئے یعنی اصلی نبوت میں فضیلت دینا کہ یہ کفر ہے"لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ"یا اپنی طرف سے گھڑ کر فضیلت دینا کہ یہ حرام ہے یا اس طرح فضیلت دینا کہ دوسرے نبی کی توہین ہوجاوے۔کسی شخص نے اعلٰی حضرت قدس سرہ کے سامنے یہ شعر پڑھا۔ع
شان یوسف جو دبی وہ بھی یہاں آکے دبی
آپ نے فرمایا یہ کفر ہے اس طرح کہو شان یوسف جو بڑھی وہ بھی اس در سے بڑھی۔سبحان الله!کیسی پیاری اصلاح ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5708