Main Icon

باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5708

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ. فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ. فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ. فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ، فَدَعَا النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- الْمُسْلِمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي كَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي،أَوْ كَانَ فِيمَنِ اسْثَثْنَى اللَّهُ". وَفِي رِوَايَةٍ: "فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَةِ يَوْمِ الطُّورِ أَوْ بُعِثَ قَبْلِي؟ وَلَا أَقُولُ: إنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بنِ مَتَّى".

وعنه قال: استب رجل من المسلمين ورجل من اليهود. فقال المسلم: والذي اصطفى محمدا على العالمين. فقال اليهودي: والذي اصطفى موسى على العالمين. فرفع المسلم يده عند ذلك فلطم وجه اليهودي، فذهب اليهودي إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، فأخبره بما كان من أمره وأمر المسلم، فدعا النبي -صلى الله عليه وسلم- المسلم فسأله عن ذلك فأخبره، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "لا تخيروني على موسى، فإن الناس يصعقون يوم القيامة، فأصعق معهم فأكون أول من يفيق، فإذا موسى باطش بجانب العرش، فلا أدري كان فيمن صعق فأفاق قبلي،أو كان فيمن اسثثنى الله". وفي رواية: "فلا أدري أحوسب بصعقة يوم الطور أو بعث قبلي؟ ولا أقول: إن أحدا أفضل من يونس بن متى".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی آپس میں جھگڑ پڑے مسلمان بولا اس کی قسم جس نے محمد صلی الله علیہ و سلم کو تمام جہان پر چن لیا تو یہودی بولا اس کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے جہانوں پر چن لیا ۱∞؎اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے منہ پر طمانچہ مار دیا یہودی نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا اور مسلمان کا جو واقعہ ہوا تھا حضورصلی الله علیہ و سلم کو اس کی خبر دی۲؎نبی صلی الله علیہ و سلم نے مسلمان کو بلایا اور اس کے متعلق اس سے پوچھا اور اس نے حضور کو یہ خبر دی۳؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو۴؎کیونکہ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہوں گے میں بھی ان کے ساتھ بے ہوش ہوں گا۵؎تو سب سے پہلے ہوش میں آنے والا میں ہوں گا،اچانک موسیٰ علیہ السلام عرش کا کنارہ پکڑے ہوں گے۶؎میں نہیں جانتا کہ کیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں تھے مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا ان میں سے ہیں جنہیں الله نے مستثنٰی فرمایا۷؎اور ایک روایت میں ہے میں نہیں جانتاکہ کیا طور کی بے ہوشی حساب میں لگائی گئی۸؎یا وہ مجھ سے پہلے اٹھائے گئے اور میں نہیں کہتا کہ کوئی بھی یونس ابن متی علیہ السلام سے افضل ہے ۹؎

شرح حدیث

۱∞؎موسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے مگر چونکہ یہودی نے یہ قید نہ لگائی بلکہ مطلقًاعالمینکہا اس لیے مسلمان نے اسے مارا۔۲؎اس نے کہا مجھ پر فلاں مسلمان نے ظلم کیا کہ بلاقصور مارا غالبًا قصاص مانگتا ہوگا حالانکہ قصور یہودی کا تھا کہ اس نے حضور صلی الله علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کی تھی اس لیے حضور انور نے اس کا قصاص نہ دلوایا یہ ضرور خیال رہے۔آج بعض مسلمان حضورصلی الله علیہ و سلم کے گستاخ ہندوؤں کو قتل کر ڈالتے ہیں،مسلمان اپنے محبوب کی بے ادبی برداشت نہیں کرتا۔۳؎معلوم ہوا کہ مدعیٰ علیہ کا بیان لے کر فیصلہ کیا جاوے مگر یہ حکم عام فیصلوں کے لیے ہے فتویٰ صرف بیان پر ہوتا ہے،بعض صورتوں میں یہ فیصلہ یک طرفہ بیان پر دیا جاتا ہے جیسے قضا علی الغائب حضور انور نے صرف بی بی ہندہ کا بیان سن کر ابوسفیان کے متعلق فتویٰ دے دیا کہ بقدر ضرورت ان کا مال ان سے بغیر پوچھے خرچ کرلیا کرو،حضرت داؤد علیہ السلام نے دو حاضرین میں سے ایک کا بیان لے کر فرمایا کہ ننانوے دنبیوں والا تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری ایک ایک دنبی بھی لینا چاہتا ہے۔خیال رہے کہ حضور انور نے مسلمان سے اس یہود کو نہ قصاص دلوایا نہ معافی مانگوائی کیونکہ قصور یہودی کا تھا کہ اس نے حضور انور کی توہین کی وہ بھی مسلمان کے سامنے یہ بات خیال رہے۔۴؎یعنی مجھے دوسرے نبیوں پر ایسی بزرگی نہ دو جس سے دوسرے نبی کی توہین ہوجاوے یا جس سے لڑائی جھگڑے کی نوبت آئے یا نفس نبوت میں ترجیح نہ دو کہ کسی کو اصلی نبی مانو کسی کو ظلی،بروزی عارضی نبی لہذا یہ حدیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہے کہ"تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ"اور نہ اس حدیث کے خلاف کہانا سیدولد آدم۔اپنی طرف سے گھڑ کر مسائل بیان نہ کرو،جو افضلیت قرآن یا حدیث سے ثابت ہو وہ بیان کرو لہذا حدیث واضح ہے،حضور صلی الله علیہ و سلم سید الاولین والا آخرین ہیں۔۵؎قوی تر یہ ہے کہ یہ نفخ صور وہ نہیں ہے جس سے لوگ زندہ کیے جائیں گے اس وقت تو سب سے پہلے حضور انور ہی زندہ ہوں گے، فرماتے ہیںانا اول من تنشق عنہ الارضبلکہ یہ صور کا پہلا نفخہ ہے جس سے زندہ لوگ مرجائیں گے اور وفات یافتہ لوگ بے ہوش ہوجائیں گے بعد میں ہوش میں آئیں گے،یا سب کے زندہ ہوچکنے کے بعد صور تیسری بار پھونکا جاوے گا جس سے سب لوگ بے ہوش ہوجائیں گے یہاں وہ واقعہ بیان ہورہا ہے۔(اشعۃ اللمعات)رب فرماتا ہے:"وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللہُ۶؎یعنی موسیٰ علیہ السلام مجھ سے پہلے کھڑے ہوئے عرش کا کنارہ پکڑے ہوں گے۔خیال رہے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام کی حضور انورصلی الله علیہ و سلم پر جزوی فضیلت ہے جو کلی فضیلت کے خلاف نہیں جیسے حضرت آدم کا مسجود ملائکہ اور ابوالبشر ہونا یا عیسیٰ علیہ ا لسلام کا بغیر والد پیدا ہونا کلیۃً حضور انور ہی تمام انبیاءعلیہم السلام افضل ہیں۔۷؎یعنی اس نفخہ میں سب لوگ بے ہوش نہ ہوں گے بعض مستثنٰی بھی رہیں گے،جسے رب نے فرمایا" اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللہُ"والله اعلم!وہ ان مستثنٰی لوگوں میں سے ہیں یا مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے۔۸؎یعنی موسیٰ علیہ السلام طور پر تجلی الٰہی دیکھ کر بے ہوش ہوچکے ہیں"فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًاغالبًا وہ بے ہوشی حساب میں لگائی گئی،آج بے ہوشی سے محفوظ رہے۔خیال رہے کہلاادریمیں علم عطا الٰہی کی نفی نہیں بلکہ علم بالدلائل کی نفی ہے۔درایت عقلی علم کو کہتے ہیں،اور یہاں اس کا مقصد ہے،عدم اعلام(نہ بتانا)جیسے"مَاۤ اَدْرِیۡ مَا یُفْعَلُ بِیۡ وَلَا بِکُمْ"میں نہیں جانتا کہ قیامت میں تمہارے ساتھ کیا ہوگا اور میرے ساتھ کیا ہوگا وہاں بھی درایت کی نفی ہے علم کی نفی نہیں۔۹؎متی یونس علیہ السلام کی والدہ کا نام شریف ہے،بعض نے فرمایا کہ آپ کے والد کا نام ہے۔حضرت یونس علیہ السلام نبی ہیں مگر اولو العزم نبی،رب فرماتاہے:"وَ لَا تَکُنۡ کَصَاحِبِ الْحُوۡتِ"اس لیے خصوصیت سے حضور انور نے ان کا نام شریف لیا۔یہاں بزرگی نہ دینے کے وہ ہی معانی ہیں جو ابھی عرض کیے گئے یعنی اصلی نبوت میں فضیلت دینا کہ یہ کفر ہے"لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ"یا اپنی طرف سے گھڑ کر فضیلت دینا کہ یہ حرام ہے یا اس طرح فضیلت دینا کہ دوسرے نبی کی توہین ہوجاوے۔کسی شخص نے اعلٰی حضرت قدس سرہ کے سامنے یہ شعر پڑھا۔ع
شان یوسف جو دبی وہ بھی یہاں آکے دبی
آپ نے فرمایا یہ کفر ہے اس طرح کہو شان یوسف جو بڑھی وہ بھی اس در سے بڑھی۔
سبحان الله!کیسی پیاری اصلاح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5708