Main Icon

باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1836

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ، فَسَأَلَ الَّذِيْ سَقَاهُ: مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهٗ وَرَدَ عَلٰى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ، فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، وَهُمْ يَسْقُوْنَ، فَحَلَبُوْا مِنْ أَلْبَانِهَا، فَجَعَلْتُهٗ فِيْ سِقَائِيْ فَهُوَ هٰذَا،فَأَدْخَلَ عُمَرُ يَدَهٗ فَاسْتَقَاءَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

عن زيد بن أسلم قال: شرب عمر بن الخطاب لبنا فأعجبه، فسأل الذي سقاه: من أين هذا اللبن؟ فأخبره أنه ورد على ماء قد سماه، فإذا نعم من نعم الصدقة، وهم يسقون، فحلبوا من ألبانها، فجعلته في سقائي فهو هذا،فأدخل عمر يده فاستقاء. رواه مالك والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے دودھ پیا تو آپ کو پسند آیا تو پلانے والے سے پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے لایا۲؎ اس نے بتایا کہ وہ ایک گھاٹ پر گیا تھا جس کا اس نے نام لیا تو وہاں صدقہ کے جانور تھے وہ پانی پلارہے تھے انہوں نے ان جانوروں کا دودھ دوھا تو میں نے اپنے مشکیزہ میں ڈال لیا۳؎ یہ وہ دودھ ہے تو حضرت عمر نے منہ میں ہاتھ ڈالا اور قے کردی۴؎(مالک،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱؎ آپ تابعی ہیں،حضرت عمرفاروق کے آزاد کردہ غلام ہیں،بڑے فقیہ و عابد تھے،آپ کے درس میں چالیس فقہاء بیٹھتے تھےحتی کہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ آپ کے درس میں شرکت فرماتے تھے۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎ مرقات نے فرمایا کہ یہ حضرت عمر کی فراست ہے،آپ نے محسوس فرمایا کہ روزانہ ہم دودھ پیتے تھے نفس اس قدر خوش نہ ہوتا تھا آج اتنا پسند کیوں کرتا ہے،نفس اس سے اتنا راضی و خوش کیوں ہوا اس میں کچھ راز ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
۳؎ یعنی زکوۃ کے اونٹ کنوئیں یا گھاٹ پر پانی پینے آتے تھے ان کا دودھ خیرات کیا گیا میں نے بھی وہ خیراتی دودھ لے لیا کیونکہ میں فقیر ہوں۔عرب میں جب جانور پانی پلانے کے لیے جمع ہوتے تھے تو فقراء جمع ہوجاتے تھے جن کو دودھ خیرات کے طور پر دیا جاتا تھا۔
۴؎ علماء فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قے کردینا تقویٰ تھا کہ ہمارے پیٹ میں صدقہ کا دودھ نہ رہے اور جزو بدن نہ بنے اور حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت بریرہ پر صدقہ کیا ہوا گوشت ہدیۃً قبول فرمالینا فتویٰ۔نتیجہ یہ ہوا کہ فقیر کا ہدیہ کیا ہوا مال کھالینا شرعًاجائز ہے نہ کھانا احتیاط ہے،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر کو شبہ ہوا کہ شاید دودھ دینے والوں کو دینے کا اختیار نہ ہو یا یہ لینے والا لینے کا مستحق نہ ہو اس شبہ کی بنا پر آپ نے یہ احتیاط کی ہو۔
لطیفہ: ایک عالم کے بیٹے کو کسی لونڈی نے اپنا دودھ پلادیا انہوں نے اس کے حلق میں انگلی ڈال کر وہ دودھ نکال دیا اور فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ دنیہ عورت کا دودھ میرے بچے کا جزو بدن بنے اور اسکی طبیعت میں دناءت پیدا ہو،ان جیسی احتیاطوں کی اصل یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1836