Main Icon

باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5514

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنِّي لأَرْجُو أَنْ لَا تَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّهَا أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفَ يَوْمٍ". قِيلَ لِسَعْدٍ: وَكَمْ نِصْفُ يَوْمٍ؟ قَالَ: خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن سعد بن أبي وقاص عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إني لأرجو أن لا تعجز أمتي عند ربها أن يؤخرهم نصف يوم". قيل لسعد: وكم نصف يوم؟ قال: خمس مئة سنة. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ میں امیدکرتا ہوں کہ میری امت اپنے رب کے نزدیک اس سے عاجز نہیں ہوگی انہیں آدھے دن کی مہلت دے ۱∞؎سعد سے کہا گیا کہ آدھا دن کتنا فرمایا پانچ سو سال ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان کے بہت مطلب بیان کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اللہ تعالٰی پانچ سو سال تک میری امت کو اعمال کرنے کی مہلت ضرور دے گا کہ اس سے پہلے قیامت نہ آوے گی،اس سے زیادہ مہلت دے دے تو اس کی مہربانی ہے۔الحمدﷲیہ خبر بالکل درست ہوئی اب قریبًا چودہ سو برس گزر چکے اور ابھی قیامت نہیں آئی۔دوسرے یہ کہ پانچ سو سال تک میری امت بڑے فتنوں بڑی آفتوں سے محفوظ رہے گی پھر بڑے بڑے فتنے آفتیں نمودار ہوں گی۔(مرقات،اشعہ)۲؎یعنی اس فرمان عالی میں دن سے مراد اللہ کا دن ہے اور اللہ کے دن کے متعلق رب فرماتاہے:"اِنَّ یَوْمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَشیخ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پردہ فرمانے کے ایک سال کے بعد جو پانچ سو سال ہوں گے یہ امت اس سے آگے نہ بڑھے قیامت اس دوران میں آجائے گی،اب پونے چودہ سو برس ہوئے ڈیڑھ سو سال باقی ہیں۔(اشعہ)ایک روایت میں ہے انسانی دنیا کی عمر ساڑھے سات ہزار سال ہے،حضور انور کی ولادت پاک حضرت آدم علیہ السلام سے ساڑھے چھ ہزار سال بعد ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانچ سو سال تک اسلامی نظام نہ بگڑنے پائے گا اس مدت کے بعد اس میں خلل پیدا ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5514