Main Icon

باب : صف سیدھی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1101

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

َعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهٗ يُصَلُّونَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ» قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ وَعَلَی الثَّانِي قَالَ: «إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهٗ يُصَلُّْونَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ» قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ وَعَلَی الثَّانِي قَالَ: «إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهٗ يُصَلُّونَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ» قَالُوا يَا رَسُولَ الله و عَلَی الثَّانِي؟ قَالَ: «و عَلَی الثَّانِي» قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «سَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَحَاذُوا بَيْنَ مَنَاكِبِكُمْ وَلِينُوا فِي أَيْدِي إِخْوَانِكُمْ وَسُدُّوا الْخَلَلَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ بَيْنَكُمْ بِمَنْزِلَةِ الْحَذَفِ» يَعْنِي أَوْلَادَ الضَّأْنِ الصِّغَارِ. رَوَاهُ أَحْمدُ

عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن الله وملائكته يصلون علی الصف الأول» قالوا يا رسول الله وعلی الثاني قال: «إن الله وملائكته يصلون علی الصف الأول» قالوا يا رسول الله وعلی الثاني قال: «إن الله وملائكته يصلون علی الصف الأول» قالوا يا رسول الله و علی الثاني؟ قال: «و علی الثاني» قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «سووا صفوفكم وحاذوا بين مناكبكم ولينوا في أيدي إخوانكم وسدوا الخلل فإن الشيطان يدخل بينكم بمنزلة الحذف» يعني أولاد الضأن الصغار. رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله اور فرشتے درود بھیجتے ہیں پہلی صف پر لوگوں نے عرض کیا یارسول الله اور دوسری پر ۱؎فرمایا کہ الله اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں پہلی صف پر لوگوں نے عرض کیا یارسول الله اور دوسری پر فرمایا کہ بے شک الله اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں پہلی صف پر لوگوں نے عرض کیا یارسول الله اور دوسری پر فرمایا اور دوسری پر ۲؎اور فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنی صفیں سیدھی کرو اور اپنے کندھوں کے درمیان مقابلہ رکھو۳؎اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو۴؎کشادگیاں بھرو کیونکہ شیطان تمہارے درمیان بکری کے بچے کی شکل میں گھس جاتاہے ۵؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎دوسری سے مراد ساری پچھلی صفیں ہیں اور ہوسکتا ہے کہ خاص دوسری ہی صف ہی مراد ہے۔
۲
؎یعنی پہلی صف پر رب تعالٰی کی رحمتیں زیادہ ہیں ا ور بقیہ صفوں پرکم۔صوفیانہ طور پرمعلوم ہوتا ہے کہ خدا کی رحمتیں حضور صلی الله علیہ وسلم کی جنبش لب سے وابستہ ہیں کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے نزول رحمت کی خبر دی تھی۔ جب تک پہلی صف کا ذکر فرمایا تو وہی رحمت الٰہی کی مستحق تھی اور جب دوسری کا نام بھی لے دیا تو اس نام لینے کی برکت سے وہ بھی رحمت کی مستحق ہوگئی۔
۳
؎پہلے عرض کیا جاچکا کہ صف سیدھی کرنے سے مراد ہے آگے پیچھے نہ ہونا اور کندھوں کے مقابلے سے مراد ہے اوپر نیچے نہ کھڑا ہونا،ہر شاہ و گدا کا ایک زمین پر کھڑا ہونا لہذا احکام میں تکرار نہیں۔
۴
؎یہ جملہ گزشتہ کی تفسیر ہے یعنی نماز میں اکڑے ہوئے مت کھڑے ہوؤ جیسے کوئی تمہاری اصلاح کرے تو قبول کرلو۔
۵
؎تمہیں وسوسہ دلانے کے لیے،رب کی شان ہے کہ شیطان صف کی کشادگی میں سے گھس سکتا ہے مگر پاؤں کے درمیان سے نہیں ہر شے کی تاثیر علیٰحدہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1101