Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3568

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهٖ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "تَعَافَوُا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ، فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله ابن عمرو بن العاص، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "تعافوا الحدود فيما بينكم، فما بلغني من حد فقد وجب". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا عبداابن عمرو ابن عاص سے راوی کہ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جرموں کی آپس میں معافی کرلو ۱؎ورنہ جو جرم ہم تک پہنچ جائے گا وہ لازم ہوجائے گا۲؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎تعافوامیں خطاب عام پبلک کو ہے نہ کہ حکام یا بادشاہوں کو اور حدود سے مراد وہ جرم ہیں جو سبب حد ہیں یعنی حقوق العباد کے جرم حکام تک نہ پہنچاؤ،آپس میں ایک دوسرے سے معافی چاہ لو جیسے چور چوری کرکے مالك کو مال واپس دے دے اس سے معافی چاہ لے حکومت تک اسے نہ جانے دے۔
۲
؎یعنی حاکم کے پاس مقدمہ پہنچ جانے پر معافی نہ ہوسکے گی۔ اس سے معلوم ہواکہ شرعی سزا صرف حاکم دے سکتا ہے دوسرا نہیں دے سکتا،نیز حاکم کے پاس جرم پہنچنے سے پہلے لازم سزا نہیں مگر پہنچ جانے کے بعد لازم ہوجاتا ہے معاف نہیں ہوسکتا نہ حاکم کے معاف کرنے سے نہ صاحب حق کے معاف کرنے سے۔خیال رہے کہ یہ امر استحبابی ہے اور چھپانا یا معاف کردینا وہاں ہی بہتر ہے جہاں اس سے فساد نہ ہو ورنہ سزا دلوا دینا نہایت ضروری ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے مخالف نہیں کہ ایک حد قائم کرنا چالیس دن کی بارش سے زیادہ مفید ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3568