Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1177

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: " أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ تُحْسَبُ بِمِثْلِهٖنَّ فِي صَلَاةِ السَّحَرِ. وَمَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَهُوَ يُسَبِّحُ لِلّٰهِ تِلْكَ السَّاعَةَ ثُمَّ قَرَأَ: (يَتَفَيَّؤُ ظِلٰلُهٗ عَنْ الْيَمِينِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

عن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " أربع ركعات قبل الظهر بعد الزوال تحسب بمثلهن في صلاة السحر. وما من شيء إلا وهو يسبح لله تلك الساعة ثم قرأ: (يتفيؤ ظلله عن اليمين و الشمائل سجدا لله وهم دخرون)رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ظہر کے پہلے زوال کے بعد چار رکعتیں نماز تہجد کی اتنی رکعتوں کے برابر رکھی جاتی ہیں ۱؎اور نہیں ہے کوئی چیز مگر وہ اس گھڑی الله کی تسبیح کرتی ہے پھر تلاوت فرمائی کہ مائل ہوتے ہیں ان کے سائے دائیں بائیں الله کو سجدہ کرتے عاجز ہو کر ۲؎(ترمذی،بیہقی ،شعب الایمان )

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ظہر کی پہلی سنتوں کا ثواب تہجد کی چار رکعتوں کے برابر ہے کیونکہ تہجد کے وقت بھی رحمت کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور ساری مخلوق رب کی عبادت کررہی ہوتی ہے اور اس وقت بھی جیسا کہ ابھی روایت میں گزر چکا اور آیندہ بھی آرہا ہے۔بعض علماء نے ان رکعتوں سے مراد فجر کی سنتیں لی ہیں۔سحربمعنی صبح مگر پہلی تفسیر زیادہ قوی ہے کیونکہ فجر کی سنتیں چار نہیں بلکہ دو ہیں۔خیال رہے کہ آدھی رات کے بعد کا وقت سحر میں شمار ہے۔
۲
؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صبح کی طرح یہ وقت بھی ساری مخلوق کی عبادت کا ہے اس لیئے یہ سنتیں بہت محبوب ہیں نیز اس وقت آفتاب ترقی سے تنزل کی طرف مائل ہوتا ہے جس میں مخلوق کی فناء کی طرف اشارہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1177