Main Icon

باب :محرم شکار سے بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2704

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبُعِ؟ قَالَ: هُوَ صَيْدٌ وَيَجْعَلُ فِيهِ كَبْشًا إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ

وعن جابر قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الضبع؟ قال: هو صيد ويجعل فيه كبشا إذا أصابه المحرم . رواه أبو داود وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے بِجّو کے متعلق پوچھا فرمایا وہ شکار ہے ۱؎اور جب محرم اسے شکار کرے تو اس کے عوض بھیڑ دے دے ۲؎(ابوداؤد، ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ لفظضبعمؤنث ہے لہذاھوضمیر کا مذکر لانا یا تو اس لیے ہے کہ اس کی خبر یہاںصیدمذکر ہے یاضبعسے مراد بِجّو کی جنس ہے۔حضرت جابر کے سوال کا منشاء یہ ہے کہ بِجّو کے قتل میں محرم پر جزیہ یا کفارہ ہے یا نہیں،اگر یہ موذی جانوروں سے ہے تب تو اس کا قتل محرم کو جائز ہے اور کفارہ وغیرہ بھی اس میں کچھ نہیں،اگر شکاری جانوروں سے ہے تو محرم کو اس کا قتل کرنا بھی حرام ہوگا اور اس کی قیمت بھی دینا ہوگی،فرمایا یہ موذی نہیں بلکہ شکار ہے۔
۲
؎یعنی محرم کے اس شکارکرلینے پر اس کے عوض ایک بھیڑ خیرات کرنی ہوگی،امام شافعی کے ہاں حلال شکار پر جزا واجب ہوتی ہے حرام شکار پر نہیں،ہمارے امام اعظم کے ہاں مطلقًا شکار پر جزا واجب ہے جانور حرام ہو یا حلال لہذا ہمارے اصول پر اس حدیث سے بِجّو کی حلت ثابت نہ ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2704