Main Icon

باب :محرم شکار سے بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2700

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰه عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَحْمُ الصَّيْدِ لَكُمْ فِي الْإِحْرَامِ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادُ لَكُمْ.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لحم الصيد لكم في الإحرام حلال ما لم تصيدوه أو يصاد لكم.رواه أبو داود والترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تمہارے لیے شکاری گوشت حلال ہے جب تک کہ تم نے اسے شکار نہ کیا ہو ۱؎یا تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو ۲؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎محرم کے شکار کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ محرم بذات خود شکار کو قتل کرے یہ جانور تو تمام مسلمانوں کے لیے حرام ہے کہ محرم کا شکار کسی کو حلال نہیں۔دوسرے یہ کہ محرم حلال کو شکار بتائے یا مدد کرے،یہ شکار حلال تو کھاسکتا ہے محرم نہیں کھاسکتا مگر ان دونوں صورتوں میں محرم پر شکار کی قیمت خیرات کرنی ہوگی،تصیدوہمیں دونوں صورتیں داخل ہیں۔
۲
؎یہ مذہب شافعی ہے کہ اگر محرم کے لیے کوئی حلال شکار کرے تو محرم کو اس کا کھانا حرام ہے،ہمارے ہاں حلال ہے،ہماری دلیل حضرت ابوقتادہ کی گزشتہ حدیث ہے۔اس حدیث کی توجیہ ہمارے ہاں یہ ہے حلال زندہ شکار محرم کے لیے پکڑے اور پیش کرے یا اس میں کسی محرم کی مدد شامل ہو تاکہ یہ حدیث حضرت ابوقتادہ کی حدیث کے خلاف نہ ہو،ہاں اگر محرم کے حکم سے حلال نے شکار کیا تو بھی محرم کو حرام ہےیصادلکمکی یہ تین توجیہیں ہوئیں۔(لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2700