Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1678

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مُسَاوِيهِمْ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “اذكروا محاسن موتاكم وكفوا عن مساويهم” . رواه أبو داود والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله علیہ وسلم نے اپنے مُردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیوں سے باز رہو ۱∞؎(ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلمان کی بعدموت اچھائیاں کبھی کبھی بیان کیاکرو کہ نیکیوں کے ذکر سے رحمت اترتی ہے،ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو کیونکہ مردے کی غیبت زندہ کی غیبت سے سخت تر ہے کہ زندہ سے معافی مانگی جاسکتی ہے مردے سے نہیں،اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ اگر غسال مردے پر کوئی نیک علامت دیکھے خوشبو یا چہرے کا نوردیکھے تو لوگوں میں چرچاکرے اور اگر بری علامت دیکھے بدبو یا چہرے کا بگڑجانا تو اس کا کسی سے ذکر نہ کرے کیونکہ ہمیں بھی مرنا ہے نہ معلوم ہمارا کیا حال ہو،بے دین کی برائی ضرور کرے تاکہ لوگ بے دینی سے بچیں،اس کی شرح پہلےگزرچکی۔یزید و حجاج وغیرہ کو آج بھی برا کہاجاتاہے کیونکہ یہ فساق ہیں،ان کا فسق ظاہرکرو تاکہ لوگ ان جیسے کاموں سے بچیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1678