Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1649

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَرَّتْ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهٗ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ فَقَالَ: “إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُوْمُوْا”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال: مرت جنازة فقام لها رسول الله صلى الله عليه وسلم وقمنا معه فقلنا: يا رسول الله إنها يهودية فقال: “إن الموت فزع فإذا رأيتم الجنازة فقوموا”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں ایک جنازہ گزرا تو اس کے لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہوگئے ہم نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم یہ تو یہودیہ تھی فرمایا موت وحشت ناک ہے تو جب تم جنازہ دیکھاکرو تو کھڑے ہوجایاکرو ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎گھبراہٹ اورخوف ظاہر کرنے کے لیے نہ کہ کافر میت کی تعظیم کے لیے اس وقت کھڑا ہونا خوف کی علامت ہے اور بیٹھارہنا سختی دل اور غفلت کی نشانی مگر یہ حکم منسوخ ہے جیساکہ آگے آرہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1649