Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1677

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ رَجُلٍ مِنَ الِمُسْلِمينَ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: “اَللّٰهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهٖ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهٗ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه

وعن واثلة بن الأسقع قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم علی رجل من المسلمين فسمعته يقول: “اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق اللهم اغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم” . رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک مسلمان آدمی پر نماز پڑھائی میں نے آپ کو یہ کہتے سنا کہ الٰہی فلاں کا بیٹا فلاں تیرے ذمہ اورتیرے قریب کے عہد میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے بچالے تو وفاء اورحق والا ہے الٰہی اسے بخش دے اور اس پر رحم کر بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے ۱∞؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں خاص دین حاضرمیت کے لیے دعاء ہے یہ بھی جائزہے کہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم نےگزشتہ عام دعاء بھی پڑھی اوراس کے بعد یہ بھی،قرب عہد سے مراد یا قرآن شریف ہے یا ایمان یعنی یہ بندہ مؤمن ہے قرآن کا ماننے والا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاعْتَصِمُوۡابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًافتنۂ قبر وہاں کے امتحان کی ناکامی ہے اور آگ کا عذاب دوزخ کا عذاب ہے خواہ قبر میں ہو یا دوزخ میں پہنچ کر۔یہ دعا ء بہت ہی جامع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1677