Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1679

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَلیٰ جَنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ ثُمَّ جَاؤُوْا بِجَنَازَةِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ صَلِّ عَلَيْهَا فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ فَقَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: هٰكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلیٰ الْجَنَازَة مَقَامَكَ مِنْهَا؟ وَمِنَ الرَّجُلِ مَقَامَكَ مِنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ نَحْوَهٗ مَعَ زِيَادَةٍ وَفِيهِ: فَقَامَ عِنْدَ عَجِيْزَةِ الْمَرْأَةِ

وعن نافع أبي غالب قال: صليت مع أنس بن مالك علی جنازة رجل فقام حيال رأسه ثم جاؤوا بجنازة امرأة من قريش فقالوا: يا أبا حمزة صل عليها فقام حيال وسط السرير فقال له العلاء بن زياد: هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قام علی الجنازة مقامك منها؟ ومن الرجل مقامك منه؟ قال: نعم. رواه الترمذي وابن ماجه وفي رواية أبي داود نحوه مع زيادة وفيه: فقام عند عجيزة المرأة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع ابی غالب سے ۱∞؎فرماتےہیں کہ میں نے حضرت انس ابن مالک کے ساتھ ایک مرد کے جنازے پرنماز پڑھی۲؎تو آپ اس کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے پھر لوگ ایک قریشی عورت کاجنازہ لائے بولے اے ابوحمزہ اس پر نماز پڑھیئے تو آپ درمیان تخت کے مقابل کھڑے ہوئے ان سے علاء ابن زیاد نے عرض کیا کہ کیا آپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو جنازے پر ایسے ہی کھڑے ہوئے دیکھا جیسے آپ مرد اورعورت کے جنازے پر کھڑے ہوئے فرمایا ہاں ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد کی روایت میں اس کی مثل ہے کچھ زیادتی کے ساتھ اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ عورت کے سرین کے مقابل کھڑے ہوئے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعین میں سےہیں،نام نافع ہے،کنیت ابوغالب،یہ وہ مشہور نافع نہیں یعنی عبد الله ابن عمر کے غلام۔۲؎یہ مرد سیدنا عبد الله ابن عمر تھے جن کی نماز سیدنا انس نے پڑھائی تھی۔(مرقات)۳؎اس حدیث پر امام شافعی کا عمل ہے،ان کے ہاں امام مرد کے سر کے مقابل اور عورت کی کمر کے مقابل کھڑا ہو اور امام مالک ہاں مرد کی کمر کے مقابل کھڑا ہو اور عورت کے کندھے کے مقابل،ہمارے ہاں مرد ہویاعورت سب کے سینہ کے مقابل کھڑا ہوکیونکہ یہ ایمان کی جگہ ہے۔اس کی نہایت ہی نفیس تحقیق اور مذہب حنفی کی ترجیح ابھی اسی باب میں گزرچکی کہ یہ حدیث امام احمد کی روایت کے مخالف ہے،ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کے پیچھے نماز پڑھی آپ میت کے سینہ کے مقابل کھڑے ہوئے۔۴؎تاکہ حضورصلی الله علیہ وسلم میت اور پیچھے والے مقتدیوں کے درمیان آڑ بن جائیں اور میت کا پردہ رہےکیونکہ میت ڈولی میں نہ تھی لہذا حضورصلی الله علیہ وسلم کا اس جگہ کھڑاہونا خصوصی واقعہ ہے وہ بھی ایک عذر کی وجہ سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1679