Main Icon

باب : مسواک کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 382

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أَيُّوْبَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِيْنَ: اَلْحَيَاءُ وَيُرْوَى الْخِتَانُ وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاكُ وَالنِّكَاحُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيْ

وعن أبي أيوب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أربع من سنن المرسلين: الحياء ويروى الختان والتعطر والسواك والنكاح ". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ چار چیزیں پیغمبروں کی سنتوں سے ہیں ۱؎شرم۔ ایک روایت میں ہے ختنہ ۲؎عطر ملنا،مسواک اور نکاح ۳؎( ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎سنت قولی یا فعلی،لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ عیسیٰ و یحیی علیھما السلام نے نکاح نہیں کیا کیونکہ ان بزرگوں نے اپنے متبعین کو نکاح کی رغبت ضروردی ۔
۲
؎بعض نسخوں میں حناء بھی ہے بمعنی مہندی مگر یہ غلط ہے،کیونکہ مردوں کو ہاتھ پاؤں میں زینت کے لیے مہندی لگانا کسی نبی کی سنت نہیں بلکہ ممنوع رہا،داڑھی میں مہندی لگانااسلام کی سنت ہے کسی نبی نے نہیں لگائی۔(مرقاۃ)حیا سے مراد وہ شرم جو انسانوں کو برائی سے روک دے ۔ختنہ سنت ابراہیمی علیہ السلام ہے کہ آپ سے لے کر ہمارے نبی تک ہر نبی کے دین میں رہا۔مرقاۃ وغیرہ میں ہے کہ حسب ذیل انبیاء ختنہ شدہ پیدا ہوئے:حضرت آدم،شیث،نوح،ہود،صالح،لوط،شعیب،یوسف،موسیٰ،سلیمان،زکریا،عیسی،ہنظلہ،حضورمحمد مصطفے علیھم الصلوۃ والسلام۔شامی نے بھی کچھ فرق سے یہ مسئلہ بیان کیا۔
۳
؎عطر سے مراد مطلقًا خوشبو کا استعمال ہے کپڑوں میں ہویابدن میں۔خیال رہے کہ یہاں چارکاعددحصر کے لیے نہیں اوربھی بہت سنت انبیاءہیں جن میں یہ چاربھی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 382